Sample Text

"لا الہ الا اللہ" معنی و مطلب اور مقام و فضیلت


لا الہ میں لا لائے نفی جنس ہے اور الہ اس کا اسم ہے اور خبر مخذوف ہے ،یعنی لا الہ حق (نہیں ہے کوئی معبود برحق)الا اللہ(مگر اللہ)یہ خبر (حق)سے استثناء ہے۔الہکے معنی ہیں،وہ ذات جس کی عبادت میں دل و ارفتہ ہو ۔یعنی اس کی طرف دل مائل ہوں اور حصول نفع یا دفع ضر کے لئے اسی کی طرف رجوع اور رغبت کریں۔یہ کلمہ اثبات اور نفی دو چیزوں کا مجموعہ ہے۔تمام مخلوقات سے الوہیت کی نفی اور اللہ کے لئے الوہیت کا اثبات۔یعنی اللہ تعالیٰ ہی معبود برحق ہےاور اس کے سوا ،مشرکین نے جتنے بھی معبود بنا رکھے ہیں سب باطل ہیں۔ذَٰلِكَ بِأَنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلْحَقُّ وَأَنَّ مَا يَدْعُونَ مِن دُونِهِۦ هُوَ ٱلْبَٰطِلُ وَأَنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلْعَلِىُّ ٱلْكَبِيرُ ﴿62﴾
ترجمعہ: یہ اس لیے کہ حق الله ہی کی ہستی ہے اور جنہیں اس کے سوا پکارتے ہیں وہ باطل ہیں اور بے شک الله ہی بلند مرتبہ بڑائی والا ہے (سورہ الحج،آیت 62)
یہ ترکیب جس میں پہلے نفی ہے پھر اثبات ،مثبت ترکیب اللہ الہ (اللہ معبود ہے)سے زیادہ بلیغ،موژر اور مفہوم کو زیادہ واضح کرنے والی ہے۔اس لئے کہ مثبت ترکیب اللہ کی الوہیت کا اثبات تو کرتی ہے لیکن ماسوا اللہ کی الوہیت کی نفی نہیں کرتی،جبکہ لا الہ الا اللہ کی ترکیب ،الوہیت کو صرف اللہ کے لئے خاص اور دوسروں کی الوہیت کی نفی کر دیتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید میں جہاں بھی اللہ کی عبادت کا حکم ہے تو بالعموم ساتھ ہی غیروں کی عبادت کی نفی بھی ہے ۔جیسے فرمایا:
وَٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا۟ بِهِۦ شَيْا ۖ وَبِٱلْوَٰلِدَيْنِ إِحْسَٰنًۭا وَبِذِى ٱلْقُرْبَىٰ وَٱلْيَتَٰمَىٰ وَٱلْمَسَٰكِينِ وَٱلْجَارِ ذِى ٱلْقُرْبَىٰ وَٱلْجَارِ ٱلْجُنُبِ وَٱلصَّاحِبِ بِٱلْجَنۢبِ وَٱبْنِ ٱلسَّبِيلِ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَٰنُكُمْ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُحِبُّ مَن كَانَ مُخْتَالًۭا فَخُورًا﴿36﴾
ترجمعہ: اور اللہ ہی کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ بناؤ اور ماں باپ اور قرابت والوں اور یتیموں اور محتاجوں اور رشتہ دار ہمسائیوں اور اجنبی ہمسائیوں اور رفقائے پہلو (یعنی پاس بیٹھنے والوں) اور مسافروں اور جو لوگ تمہارے قبضے میں ہوں سب کے ساتھ احسان کرو کہ خدا (احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے اور) تکبر کرنے والے بڑائی مارنے والے کو دوست نہیں رکھتا (سورہ النساء،آیت 36)
لَآ إِكْرَاهَ فِى ٱلدِّينِ ۖ قَد تَّبَيَّنَ ٱلرُّشْدُ مِنَ ٱلْغَىِّ ۚ فَمَن يَكْفُرْ بِٱلطَّٰغُوتِ وَيُؤْمِنۢ بِٱللَّهِ فَقَدِ ٱسْتَمْسَكَ بِٱلْعُرْوَةِ ٱلْوُثْقَىٰ لَا ٱنفِصَامَ لَهَا ۗ وَٱللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ ﴿256﴾
ترجمعہ: دین کے معاملے میں زبردستی نہیں ہے بے شک ہدایت یقیناً گمراہی سے ممتاز ہو چکی ہے پھر جو شخص شیطان کو نہ مانے اور الله پر ایمان لائے تو اس نے مضبوط حلقہ پکڑ لیاجو ٹوٹنے والا نہیں اور الله سننے والا جاننے والا ہے (سورہ البقرہ،آیت 256) 
وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِى كُلِّ أُمَّةٍۢ رَّسُولًا أَنِ ٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ وَٱجْتَنِبُوا۟ ٱلطَّٰغُوتَ ۖ فَمِنْهُم مَّنْ هَدَى ٱللَّهُ وَمِنْهُم مَّنْ حَقَّتْ عَلَيْهِ ٱلضَّلَٰلَةُ ۚ فَسِيرُوا۟ فِى ٱلْأَرْضِ فَٱنظُرُوا۟ كَيْفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلْمُكَذِّبِينَ ﴿36﴾
ترجمعہ: اور ہم نے ہر جماعت میں پیغمبر بھیجا کہ خدا ہی کی عبادت کرو اور بتوں (کی پرستش) سے اجتناب کرو۔ تو ان میں بعض ایسے ہیں جن کو خدا نے ہدایت دی اور بعض ایسے ہیں جن پر گمراہی ثابت ہوئی۔ سو زمین پر چل پھر کر دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا انجام کیسا ہوا (سورہ النحل،آیت 36)
طاغوت کیا ہے جس سے بچنے کا حکم ہے ؟اللہ کے سوا جس کی بھی عبادت یا اطاعت کی جائے ،وہ طاغوت ہے۔یہ ضروری ہے کہ اللہ کی عبادت اور اطاعت کے ساتھ طاغوت کی عبادت سےانکار اور اجتناب کیا جائے۔اور حدیث میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"جس نے کہااللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اللہ کے سوا جن کی عبادت کی جاتی ہے ان سب کا اس نے انکار کیا تو اس کا مال اور جان محفوظ ہو گیا۔"(صحیح مسلم)
اور ہر پیغمبر نے بھی اپنی قوم کو یہی پیغام دیا:
لَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَىٰ قَوْمِهِۦ فَقَالَ يَٰقَوْمِ ٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَٰهٍ غَيْرُهُۥ إِنِّىٓ أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍۢ ﴿59﴾
ترجمعہ: بے شک ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا پس اس نے کہا اے میری قوم الله کی بندگی کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں میں تم پر ایک بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں (سورہ الاعراف،آیت 59)
اور یہی وجہ ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین مکہ سے کہا کہ "لا الہ الا اللہ" کا اقرار کر لو ،تو انہوں نے کہا:
أَجَعَلَ ٱلْءَالِهَةَ إِلَٰهًۭا وَٰحِدًا ۖ إِنَّ هَٰذَا لَشَىْءٌ عُجَابٌۭ ﴿٥﴾
ترجمعہ: کیا اس نے کئی معبودوں کو صرف ایک معبود بنایا ہے بے شک یہ بڑی عجیب بات ہے (سورہ ص،آیت 5)
اس سے معلوم ہوا کہ مشرکین نے یہ بات سمجھ لی تھی کہ اس کلمے کے اقرار کا مطلب ایک اللہ کی عبادت اور تمام بتوں کی عبادت کی نفی ہے۔اور یہ بات ان کو پسند نہیں تھی۔اس لیے اس کے اقرار سے انہوں نے گریز کیا۔
یہ موضوع اس کتاب سے لیا گیا ہے۔