Sample Text

حیدرآباد سلفی مساجد کا مرکز

جمعیت اھل حدیث حیدرآباد کی مساجد

دنیا میں بہترین دوست کتاب ہے

کتابیں پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

وضوء مکمل اور صحیح طریقہ اور اہم مسائل:

::: فرضیتِ وضوء :::
::: قُران میں سے دلیل ::: اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے (یَا اَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا اِذَا قُمتُم اِلَی الصَّلاۃِ فاغسِلُوا وُجُوہَکُم وَاَیدِیَکُم اِلَی المَرَافِقِ وَامسَحُوا بِرُؤُوسِکُم وَاَرجُلَکُم اِلَی الکَعبَینِ )(اے لوگو جو ایمان لائے ہو جب تم نماز کے اٹھو تو اپنے چہروں کو دھو لو اور اپنے ہاتھوں کو کہنیوں تک دھو لواور اپنے سر کا مسح کرو اور اپنے پیروں کو ٹخنوں تک دھو لو) سورت المائدہ آیت ٦،
::: سُنّت میں سے دلیل ::: (١) ::: ابو ہُریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ( لَا تُقبَلُ صَلَاۃُ من اَحدَث َ حتی یَتَوَضَّاَ ) ( جِس کو حدث (اصغر)ہو جائے اُس کی نماز اُس وقت تک قُبُول نہیں ہوتی جب تک وہ وضوء نہ کر لے ) صحیح بخاری /حدیث١٣٥ /کتاب الوضوء / باب ٢ ،
اور صحیح مُسلم کے روایت کے اِلفاظ ہیں(لَا تُقبَلُ صَلَاۃُ اَحَدِکُم اِذا اَحدَث َ حَتٰی یَتَوَضَّاَ ) ( اگر تم لوگوں میں سے کوئی کِسی کو حدث (اصغر)ہو جائے تو اُسکی نماز اُس وقت تک قبول نہیں ہوتی جب تک کہ وہ وضوء نہ کر لے ) صحیح مسلم /حدیث ٢٢٥ /کتاب الطہارۃ /باب٢
::: دلیل (٢) ::: عبداللہ ابن عُمر رضی اللہ عنہما کا کہنا ہے ،میں نے رسول اللہ صلی سے سُنا ( لَا تُقبَلُ صَلَاۃٌ بِغَیرِ طُہُورٍ ولا صَدَقَۃٌ من غُلُولٍ)( طہارت (پاکیزگی ) کے بغیر نماز قُبُول نہیں ہوتی اور نہ ہی مالِ غنیمت میں سے خیانت کر کے لیے گئے مال میں سے صدقہ (قُبُول ہوتا ہے)) صحیح مُسلم / حدیث ٢٢٤ /کتاب الطہارۃ /باب٢
سنن کی کتابوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ مندرجہ بالا اِلفاظ بکثرت روایات میں ملتے ہیں ، جِن کے ذریعے سے یہ واضح حُکم ملتا ہے کہ اگر کوئی وضو کی حالت میں نہیں ہے اور وضو کیے بغیر اس نے نماز ادا کی ہے تو اللہ کے ہاں اس کی نماز ادا نہیں ہوئی۔ یعنی ، نماز کی ادائیگی کے لیے وضوء کی حالت میں ہونا شرط ہے ، ( نماز کی شروط کے بارے میں ایک الگ درس ہو چکا ہے)
مندرجہ بالا احادیث میں ''' حدث ''' اِستعمال ہوا ہے ، ''' حدث ''' کی دو کیفیات ہوتی ہیں ،
''' حدث اکبر''' اور''' حدث اصغر''' ، جن کے وارد ہونے سے مسلمان پاکیزگی کے حکم سے خارج ہوجاتا ہے ''' حدث اصغر''' کا تعارف ''' غُسل ''' والے مضمون میں کروایا جا چکا ہے ، اور اِنشاء اللہ ''' حدث اکبر ''' کا تعارف''' طہارت اور نجاست '''کی بُنیادی تفصیل اُن کے مُقام و موقع پر بیان کروں گا جو کہ ان چیزوں کو سمجھنے کے لئیے ضروری ہے کہ نجاست اور طہارت کیا ہے ؟اور حدث اکبر اور حدث اصغریعنی بڑی پلیدگی اور چھوٹی پلیدگی کیا ہے؟
::: فرضیتِ وضوء کی تیسری دلیل ::: یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر آج تک امت کا اجماع ہے اور کسی بھی مذہب کسی بھی فقہ میںاس کے لئیے اختلاف نہیں ہے کہ وضوء کیے بغیر طہارت اختیار کی جا سکتی ہے ،
وضوء کی فضیلت میں بہت سی احادیث وارد ہوئیں ہیں لیکن موضوع کو مختصر رکھتے ہوئے میں اِن احادیث کا یہاں ذکر نہیں کرتا کیونکہ یہ مضمون اس وقت صرف وضوء کی کیفیت یعنی وضو کے طریقہ کے بارے میں ہے ،
وضوء کے طریقوں کو سمجھنے کے لیے ہم اِس کو دو حصوں میں تقسیم کرتے ہیں:::
::: (١) وضوء کے فرائض ::: وہ کام جو اللہ تعالیٰ نے مندرجہ بالا آیتِ وضوء میں بیان فرمائے ہیں ،
::: (٢) وضوء کی سنتیں ::: وضوء میں وہ کام جو آیتِ وضو میں نہیں ہیں لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیے ہیں ۔
::::: وضو کے فرائض :::::
::: (١) پہلا فرض ::: جو کہ صرف وضو کے لئیے ہی نہیں بلکہ بہت سے کاموں میں فرضیت کا حکم رکھتا ہے، وہ ہے ::: نیت ::: یعنی جب کوئی شخص اٹھ کر اپنے چہرے، ہاتھوں ،پیروں کو دھوتا ہے تو اِس کے دل میں یہ اِرادہ ہونا چاہئیے کہ وہ اس خاص ترتیب سے جو عمل کر رہا ہے وہ وضوء ہے اور نجاست سے طہارت میں داخل ہونے کے لیے وہ یہ عمل کر رہا ہے،
::: مسئلہ ::: یہ بات بہت اچھی طرح ذہن نشین ہونی چاہیے اور ہمیشہ رہنی چاہیے کہ نیت کی جگہ دل ہے ، کیونکہ نیت کا مطلب اِرادہ ہوتا ہے اور اِرادہ دِل میں ہوتا ہے، کِسی بھی عِبادت کے لیے زُبان سے نیت ادا کرنے کی کوئی دلیل ہمیں قرآن اور صحیح ثابت شدہ احادیث حدیث میں نہیں ملتی ، کچھ لوگ حج کے تلبیہ کو زُبانی نیت کی دلیل کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں جب کہ تلبیہ کے الفاظ صاف صاف بتاتے ہیں کہ یہ نیت نہیں ہے بلکہ جب کوئی مُسلمان اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی طرف سے ادائیگی حج کے حکم پرلبیک کہتے ہوئے نکلتا ہے تواللہ کے حُکم کا جواب دیتا ہے، بہرحال یہ اِس وقت ہمارا موضوع نہیں اس موضوع پر میری کتاب ''' عمرہ اور حج رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ پر''' میں کچھ تفصیل لکھی گئی ہے اِس کو پڑھنا انشاء اللہ تعالی مفید ہو گا ،
::: (٢) وضوکے فرائض میں سے دوسرا فرض ہے کہ ::: چہرے کو دھویا جائے ::: اور دھونے کا مطلب ہے کہ پانی کو چہرے پر اچھی طرح سے بہایا جائے ، یاد رہے کہ، لمبائی میں پیشانی سے لے تھوڑی اور داڑھوں کے نیچے تک کے حصہ کو ، اور چوڑائی میں ایک کان سے لے کر دوسرے کان کے آغاز تک کے حصہ کوچہرہ کہا جاتا ہے،
::: (٣) وضوء کے فرائض میں سے تیسرا فرض ہے ::: دونوں ہاتھوں کوکُہنیوں تک دھویا جائے ::: کندھے سے ہاتھ کی طرف پہلا جوڑ جو بازو کے درمیان میں ہوتا ہے کُہنی کہلاتا ہے۔
::: (٤) وضوء کے فرائض میں سے چوتھا فرض ہے::: سر کا مسح کرنا::: یعنی وضوء کرتے ہوئے گیلے ہاتھوں کو سر پر پھیرا جائے ،
:::مسح کرنے کا طریقہ ::: عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہُ سے کِسی نے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کِس طرح وضوء کیا کرتے تھے تو اُنہوں نے پورا طریقہ بتاتے ہوئے کہا (،،،،، ثُمَّ مَسَحَ رَاسَہ ُ بِیَدَیہِ فَاَقبَلَ بِہِمَا وَاَدبَرَ بَدَاَ بِمُقَدَّمِ رَاسِہِ حتی ذَہَبَ بِہِمَا اِلی قَفَاہُ ثُمَّ رَدَّہُمَا اِلیَ المَکَانِِ الذِی بَدَاَ مِنہ ُ،،،،، ) ( ،،،،، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں سے سرکا مسح کیا ، مسح کا آغاز سر کے اگلے حصے سے کیا ( یعنی پیشانی کے بعد جہاں سے سر کا آغاز ہوتا ہے وہیں سے مسح کا آغاز کیا جائے گا) اور دونوں ہاتھوں کو پیچھے تک لے گئے اور پھر واپس جہاں سے مسح کا آغازکیا تھا وہاں لے آئے ،،،،، ) صحیح البُخاری / حدیث ١٨٣/کتاب الوضوء / باب ٣٧ ، صحیح مُسلم / حدیث ٢٣٥ / کتاب الطہارۃ /باب ٧،
::: مسئلہ (١) ::: عِمامہ ، خِمار ، ٹوپی وغیرہ پر مسح کرنا ::: یعنی :::
اگر مسح کرتے ہوئے سر پر کوئی ٹوپی یا کپڑا وغیرہ ہے اور وضوء کرنے والا اسے اُتارنا نہیں چاہتا تو وہ اسی پر مسح کر سکتا ہے،
::: دلیل (١) ::: عَمرو بن امیہ رضی اللہ تعالی عنہ کا کہنا ہے کہ( رایتُ النَّبیَ صَلّی اللَّہ ُ عَلِیہ وسَلمَ یَمسَحُ علی عِمَامَتِہِ ) (میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے عِمامہ پر مسح کرتے ہوا دیکھا ہے) صحیح البُخاری / حدیث ٢٠٢/کتاب الوضوء / باب ٤٧ ،
::: دلیل (٢) ::: سر پر رکھی ہوئی چادر (خِمار)کے بارے میں الگ سے بھی بلال رضی اللہ عنہُ سے روایت کہ (اَنَّ رَسُولَ اللَّہِ صَلّی اللَّہ ُ عَلِیہِ وسَلمَ مَسَحَ علی الخُفَّینِ وَالخِمَارِ ) ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چمڑے کے موزوں پر اور سر پر رکھی جانے والی چادر پر مسح کیا ) صحیح مُسلم / حدیث ٢٧٥ / کتاب الطہارۃ /باب٢٣، سنن ابن ماجہ / حدیث ٥٦١ /کتاب الطہارۃ و سننھا / باب ٨٩ کی پہلی حدیث، صحیح سنن ابن ماجہ ٤٥٥،
::: قابلِ غور ::: عِمامہ سے مراد صِرف روایتی قِسم کی وہ ایک پگڑی نہیں ہے جِسے ہم عمامہ شریف کہتے اور سمجھتے ہیں، کیونکہ العِمامۃ ، مِن لباس الراس المعروفۃ، و ھی ما تعم الراس ، یعنی ، عِمامہ سر کے معروف لباسوں میں سے وہ چیز ہے جوپورے سر کو ڈھانپے رکھے، لہذا اگر کسی نے سر پر کپڑا لے رکھاہے یا لپیٹ رکھا ہے یا باندھا ہوا ہے ، تو یہ تینوں کیفیات عمامہ کی ہیں ، اور ٹوپی بھی اِسی حُکم میں داخل ہے ، اور '' خِمار ''' اُس چادر کو کہتے ہیں جسے سر پر باندھے بغیر رکھا جاتا ہے،
::: یاد دھانی ::: اِن سب چیزوں پر اُسی طریقے سے مسح کیا جا ئے گا، جو طریقہ ابھی عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہُ والی روایت میں بیان ہوا ہے،
::: مسئلہ(٢) ::: سر( اور کانوں) کا مسح ایک دفعہ سے زیادہ بھی کیا جا سکتا ہے :::
عام طور پر یہ خیال کیا جاتاہے کہ سر( اور کانوں ) کا مسح ایک ہی دفعہ کیا جائے گا ، خواہ اعضاءِ وضوء دو دو دفعہ دھوئے جائیں یا تین تین دفعہ ، بلکہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ایک دفعہ سے زیادہ مسح کرنا جائز نہیں ، مگر یہ دونوں باتیں دُرست نہیں ، سر (اور کانوں) کا مسح بھی تین دفعہ کیا جا سکتا ہے ،
عام معمول میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر (اور کانوں) کا مسح ایک دفعہ کیا کرتے تھے ، اِس لیے ایک دفعہ کی روایات زیادہ ہیں ، پس دونوں قِسم کی روایات پر عمل کرتے رہنا چاہیئے ، اور وہ یوں کہ عام طور پر تو ایک دفعہ مسح کیا جائے اور کبھی کبھی تین دفعہ ، تا کہ دونوں سُنّتوں پر عمل ہو جائے ،
::: دلیل ::: شفیق بن سمرہ رحمہُ اللہ سے کا کہنا ہے کہ ( رایت عُثمَانَ بن عَفَّانَ (رَضِی اللَّہ ُ عنہ ُ)غَسَلَ ذِرَاعَیہِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا وَمَسَحَ رَاسَہُ ثَلَاثًا ثُمَّ قال ::: رایت رَسُولَ اللَّہِ صَلَی اللَّہ ُ عَلِیہِ وَسَلَّم َ فَعَلَ ہذا ::: ) ( میں نے عُثمان بن عفان (رضی اللہ عنہُ کو وضوء کرتے ہوئے دیکھا کہ) اُنہوں نے اپنی کلائیاں تین تین دفعہ دھوئِیں اور اپنے سر کا تین دفعہ مسح کیا اور پھر فرمایا ::: میں نے رسول اللہ صلی اللہ عَلیہ وسلم کو ایسا ہی کرتے ہوئے دیکھا ::: ) سنن ابی داؤد / حدیث ١١٠ ، اور حمران رضی اللہ عنہُ سے بھی یہ روایت ہے /حدیث ، ١٠٧ ،دونوں روایات کو اِمام الالبانی نے صحیح قرار دِیا ، مزید تفصیل ''' فتح الباری ''' اور ''' سُبل السّلام ''' اور ''' تمام المنۃ /ص٩١ ''' میں میسر ہے ،
::: مسئلہ(٣) ::: سر کے ساتھ ساتھ پیشانی کا مسح بھی کیا جا سکتا ہے ،
::: دلیل ::: مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہُ سے روایت ہے کہ (اَنَّ النبی صَلّی اللَّہ ُ عَلِیہِ وسَلمَ تَوَضَّاَ فَمَسَحَ بِنَاصِیَتِہِ وَعَلَی العِمَامَۃِ وَعَلَی الخُفَّینِ )( نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور اپنی پیشانی اپنے امامہ اور اپنے چمڑے کے موزوں پر مسح کیا ) صحیح مُسلم / حدیث ٢٧٤ / کتاب الطہارۃ /باب ٢٣
::: مزید قابلِ غور ::: اس چیز کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی ثبوت نہیں ملتا کہ انہوں نے سر کے کچھ حصوں پر مسح کیا ہو جیسے کہ اکثر مسلمانوں میں یہ چیز نظر آتی ہے کہ ہاتھوں میں نیا پانی لیتے ہیں اور اس کو جھٹکتے ہوئے اپنے ہاتھوں کی انگلیوں کی پہلی پوروں کو پیشانی کے سامنے والے حصہ میں تین دفعہ کبوتر کی چونچ کی طرح مار کر مسح کر لیتے ہیں، یا بالوں کی سامنے والی لِٹ (پف) پر ہلکا ہلکا سا مسح کر لیتے ہیں تاکہ بال بھی نہ خراب ہوں اور مسح بھی ہو جائے ، راضی رہے رحمان بھی اور خوش رہے شیطان بھی ، اِنَّا لِلّہِ وَاِنَّا اِلیہِ رَاجِعُونَ ، یا سر کے کچھ حصے پر ہاتھ پھیر لیتے ہیں ، سر کے مسح کے یہ سب طریقے خِلافِ سُنّت ہیں، سر اور سر ڈھانپنے والی چیزوں کا ایک اکیلا طریقہ صِرف وہی ہے جوابھی عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہُ والی حدیث میں بیان ہوا ہے ۔
::: مسئلہ(٤) ::: سر کے مسح کے لیے ہاتھوں پر نیا پانی بھی لگایا جا سکتا ہے ،
:::دلیل ::: عبداللہ بن ابو زید رضی اللہ عنہُ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضوء کا طریقہ بتاتے ہوئے کہتے ہیں ( ،،،،، وَمَسَحَ بِرَاسِہِ بِمَاءٍ غَیرَ فَضلِ یَدہِ ،،،،،) ( ،،،،، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھوں پر لگے ہوئے پانی کے عِلاوہ (نئے) پانی سے اپنے سر کا مسح کیا ،،،،،) صحیح ابن حبان / حدیث١٠٨٢/کتاب الطہارۃ /باب ٣ سُنن الوضوء کا ٢٦واں حصہ، صحیح سنن ابو داؤد / حدیث ١١١،
::: مسئلہ(٥) ::: سر اور کانوں کے ساتھ یا بعد میں ، یا وضوء کا حصہ سمجھتے ہوئے گردن کا مسح کرنا ، سُنّت میں ثابت نہیں 
جاری ہے، اِس کا بیان اِنشاء اللہ وضوء کی سُنتوں میں کانوں کے مسح میں کیا جائے گا ۔

پتھروں(ہیرے ، موتی ، عقیق ، زمرد وغیرہ )کے اثرات

الحَمدُ للہ ، الذی أرسل رَسولہُ بالھُدیٰ ، و أنطقہُ بالوحی یُوحیٰ ، و أشھد لَہُ أنّہ لا ینطِقُ عن الھویٰ ، بل کلامہ وحی الذی الیہ یُوحیٰ ،و أخبرنا أنّہُ مَن کذّب و تولیٰ فلا یُطیع ُرسولہُ فسوف یُدخِلہُ النَّار التلظیٰ
تمام اور خالص تعریف اللہ ہی کا حق ہے ، جِس نے اپنے رسول کو ہدایت کے ساتھ بھیجا ، اور اُسے اپنی وحی کے مطابق کلام کروایا ، اور اپنے رسول کے بارے میں گواہی دہی کہ وہ اپنی خواہش کے مطابق بات نہیں کرتا ، اور ہمیں خبر دی کہ جو کوئی بھی اللہ کی بات کو جُھٹلائے گا اور اُس سے رُوگردانی کرے گا پس اُس کے رسول کی اطاعت نہیں کرے گا اللہ ایسے ہر شخص کو بڑھکتی ہوئی آگ میں داخل کرے گا ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ، ہم مسلمانوں میں پائے جانے والے بہت سےعقائد ایسے ہیں جن کے ٹھیک ہونے کا اسلامی تعلیمات میں کوئی صحیح ثابت شدہ ثبوت نہیں ملتا ، یعنی نہ تو اللہ تبارک و تعالیٰ کی کتاب میں ان عقائد کی درستگی کی کوئی دلیل ملتی ہے اور نہ ہی خلیل اللہ محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی قولی ، فعلی یا تقریری سُنّت میں سے ، اور نہ ہی صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کی جماعت کے اقوال و افعال میں ، بس ، لوگوں کی خود ساختہ من گھڑت روایات ہیں ، اور باتیں ہیں ، جنہیں رسول اللہ محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم سے منسوب کیا گیا ، اور اسی طرح کے کچھ بے ثبوت قصے کہانیاں ، خواب ، اور تخیلات ہیں ، ایسے ہی خود ساختہ ، مَن گھڑت عقائد میں کچھ خاص پتھروں کے بارے میں اس قسم کے عقیدے بھی پائے جاتے ہیں کہ وہ پتھر انسان کے لیے روحانی یا مادی فائدہ یا نقصان پہچانے کی قدرت یا صلاحیت رکھتے ہیں ، مختلف پتھروں کے بارے میں اس قسم کے عقائد بھی خود ساختہ اور من گھڑت ہی ہیں کہ اگر انہیں پہنا جایا تو وہ پتھر انسان کوئی فائدہ پہنچاتے ہیں ، یا مختلف قسم کی تکلیفوں ، بیماریوں اور پریشانیوں وغیرہ سے بچاتے ہیں ، ان خلافء اسلام عقائد کو کچھ مضبوط بنانے کے لیے ، اور ان کی گمراہی کو درست دکھانے کے لیے ان پتھروں کے اثرات کو ستاروں سیاروں کے اثرات اور ان کی چالوں سے بھی جوڑا جاتا ہے ، جو کہ گمراہی پر گمراہی کے مصداق ہے ، ستاروں اور سیاروں کی چال اور اثرات کی حقیقت ایک الگ مضمون میں بیان کر چکا ہوں ، اِن شاء اللہ اس کا مطالعہ بھی مفید رہے گا ، اس کا ربط درج ذیل ہے :

کچھ لوگ ان پتھروں ، اور زیورات کے لیے استعمال ہونے والی مختلف دھاتوں کے بارے میں کچھ ایسی غیر حقیقی باتیں بھی مانتے ہیں کہ یہ مختلف دھاتیں اور پتھر انسانی جسم پر اچھے اثرات مرتب کرتے ہیں ، اور مختلف قسم کی بیماریاں ختم کرتے ہیں ، اور انسانی جسم میں فائدہ مند مواد بناتے اور بڑھاتے ہیں، اگر ایسا ہی ہوتا ، تو ہمارے اس موجودہ دور کی ترقی یافتہ میڈیکل ، اور میڈیسن سائنس کے ماہرین طرح طرح کی جڑی بوٹیوں اور جسم کے اندر داخل کیے جانے والے مختلف مواد کی دوائیاں بنانے میں جان کھپانے کی بجائے ان پتھروں اور دھاتوں کے ذریعے علاج کرتے ہوئے نظر آتے ، کیونکہ جسم کے اندر داخل کیے جانے والی ادویات کے جانبی نقصانات (Side effects)ایک ناقابل تردید حقیقت ہیں ، جو اکثر اوقات وقتی طور پر ملنے والے آرام کے بعد پہلی بیماری سے زیادہ اور بڑی بیماری کا سبب بنتے ہیں ، ان سے بچے رہنے کے لیے یہ پتھر اور دھاتیں اچھی رہتیں کہ یہ نہ تو جسم میں داخل ہوتیں اور نہ ہی جانبی نقصانات ہوتے ، اگر یہ کہا جائے کہ یہ پتھر اور دھاتیں بہت قیمتی ہوتی ہیں ، صرف مالدار لوگ ہی استعمال کر سکتے ہیں ، تو بھی ان کے ذریعے علاج کے عملی نمونے تو ملنے ہی چاہیں تھے ، اور مالدار لوگ سفید بستروں پر سسکتے ہوئے ، دوسرے کے محتاج بنے ہوئے ، بہت زیادہ مال ہوتے ہوئے بھی اللہ کی کئی نعمتوں کو استعمال نہ کرنے کی حالت ، میں دکھائی نہیں دینا چاہیے تھے ، اگر کوئی ان پتھروں یا دھاتوں کو کسی طرح کھنچ تان کر سائنسی تحقیقات کی روشنی میں رکھ کر اپنی بد عقیدگی کی درستگی کی کوئی دلیل بنا بھی لے تو بھی وہ کوئی یقینی محقق بات نہیں کیونکہ ان پتھروں اور زیورات کے لیے استعمال ہونے والی دھاتوں کے بارے میں سائنسی طور پر بھی کوئی یقینی ثابت شدہ بات ایسی نہیں ملتی جو ان چیزوں کو انسانی جسم پر کسی قسم کے اچھے یا برے اثرات مرتب کرنے والے ثابت کر سکے ، اور عملی طور پر بھی ، اور بالفرض محال اگر مل بھی جائے تو بھی مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہمیں اس کی تصدیق اللہ اور اس کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی عطاء فرمودہ خبروں اور تعلیمات کی کسوٹیوں پر کرنا لازم ہے ، کیونکہ معاملہ ان پتھروں اور دھاتوں کی مادی تاثیر پر مشتمل باتوں تک ہی محدود نہیں کہ یہ سمجھا جائے کہ دیگر ادویات یا طاقت پہنچانے والی خوراک کی طرح یہ بھی اثر رکھتے ہیں ، بلکہ معاملہ روحانی اور اللہ کی مقرر کردہ تقدیروں پر اثر انداز ہونے کی باتوں کا ہے ،

لہذا ہم اِن شاء اللہ ، ہم ان عقائد اور خبروں کو اللہ کی کتاب قران کریم اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی سُنّت شریفہ کی کسوٹی پرپرکھ کر ان عقائد اورخبروں کی حقیقت جانتے ہیں ، میں اس مضمون کے موضوع"""پتھروں(ہیرے ، موتی ، عقیق ، زمرد وغیرہ )کے اثرات""" کو مختصر رکھنا چاہتا ہوں،اِن شاء اللہ ، اس لیےصِرف بنیادی اور کلیدی معلومات بیان کرنے پر ہی اکتفاء کروں گا ، 
سب سے پہلے ہم اللہ جلّ و علا کے کلام ، اُس کی کتاب کریم ، قران حکیم میں دیکھتے ہیں کہ کیا اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنی کتاب شریف میں ان پتھروں ، یا کسی قسم کے پتھر کے بارے میں ایسی کوئی خبر دی ہے کہ وہ انسان کی زندگی پر کسی قسم کا کوئی اثر رکھتا ہے ؟؟؟ اللہ سُبحانہ ُ و تعالیٰ نے اپنی کتاب قران مجید میں صرف چار مقامات پر ایسے پتھروں میں سے کچھ کا ذ،کر فرمایا ہے جن پتھروں کو نفع یا نقصان دینے والے ، یا نقصان سے بچانے والے سمجھا جا تا ہے ، اور وہ مقامات درج ذیل ہیں
::: (((((كَأَنَّهُنَّ الْيَاقُوتُ وَالْمَرْجَانُ::: گویا کہ وہ (حوریں)یاقوت اور مونگے ہیں)))))سُورت الرحمٰن (55)/آیت 22، 
(((((يَخْرُجُ مِنْهُمَا اللُّؤْلُؤُ وَالْمَرْجَانُ::: اُن دونوں(سُمندورں ) میں سے موتی اور مونگے نکلتے ہیں )))))سُورت الرحمٰن (55)/آیت 58، 
(((((كَأَمْثَالِ الْلُؤْلُؤِ الْمَكْنُونِ::: (وہ حوریں )چُھپے ہوئے موتی کی طرح(ہیں))))))سُورت الواقعہ(56)/آیت 23، 
(((((وَيَطُوفُ عَلَيْهِمْ وِلْدَانٌ مُخَلَّدُونَ إِذَا رَأَيْتَهُمْ حَسِبْتَهُمْ لُؤْلُؤاً مَنْثُوراً::: اور ان (جنّتیوں)کے اِر گِرد ہمیشہ(ایک ہی عمر میں ) رہنے والے چھوٹی عمر کے لڑکے رہا کریں گے ، اگر آپ اُن(لڑکوں) کو دیکھیں تو بکھرے ہوئے موتی سمجھیں )))))سُورت الانسان(76)/آیت19،

ان سب ہی آیات مبارکہ میں جن پتھروں کا ذِکر فرمایا گیا ہے ان میں کسی کے بارے میں ایسی کوئی خبر نہیں بیان فرمائی گئی کہ یہ پتھر انسان کی دُنیاوی زندگی میں ، یا اُخروی زندگی میں اسے کوئی روحانی یا مادی فائدہ یا نقصان پہنچانے کی قدرت یا صلاحیت رکھتے ہیں ، بلکہ صِرف آخرت میں اہل جنّت کو دی جانے والی نعمتوں کے بارے میں کچھ اندازہ کرنے کے لیے ان پتھروں کو تشبیہ ، مثال کے طور پر ذِکر فرمایا گیا ہے ، ان آیات شریفہ میں کہیں بھی ، اِشارۃً بھی ایسا کوئی ذِکر نہیں جس کی بنا پر اِن پتھروں کو انسانی زندگی میں رواحانی یا مادی طور پر کسی بھی قسم کا اثر رکھنے والا سمجھا جائے ، اور نہ ہی اللہ کے مقرر کردہ مفسر اور شارح قران محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی طرف سے ، اور نہ ہی اُن صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے شاگردوں صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کی طرف سے ، اور نہ ہی اُمت کے أئمہ کرام رحمہم اللہ کی طرف سے ان آیات شریفہ کی کوئی ایسی تفسیر بیان ہوئی ہے جس کی بنا پر ان آیات مبارکہ میں مذکور پتھروں یا ان جیسے دوسرے پتھروں یا کسی بھی اور پتھر کے بارے میں یہ سمجھا جا سکے کہ وہ انسانی زندگی میں کسی تاثیر کے حامل ہوتے ہیں ، لہذا اس قسم کے عقائد کی درستگی کے لیے اللہ کی کتاب قران مجید میں سے بھی کوئی دلیل میسر نہیں ہو پاتی ، 

قران کریم کے بعد ، اللہ کے دِین کے احکام ، معاملات اور اللہ کی رضا کے مطابق عقائد کا دوسرا ذریعہ اور دوسری کسوٹی اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی قولی ، فعلی یا تقریری سُنّت مبارکہ ہے ، جب ہم سُنّت شریفہ کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں وہاں بھی کوئی ایسی صحیح ثابت شدہ خبر نہیں ملتی جو کچھ خاص پتھروں کو یا کسی بھی پتھر کو انسان کی زندگی میں کسی بھی قسم کے اثر والا بتاتی ہو ، ایسی روایات جن میں کسی پتھر کے بارے میں کوئی ایسی خبر ہے کہ وہ پتھر انسان کو کسی قسم کا فائدہ دیتا ہے ، یا کسی قسم کے نقصان سے بچاتا ہے ، وہ ساری ہی روایات خود ساختہ ، من گھڑت اور جھوٹی ہیں ، جن کی حقیقت صدیوں پہلے حدیث شریف کی تحقیق کرنے والے اِماموں رحمہم اللہ جمعیاً نے واضح کر دی ہے ، مثال کے طور پر چند ایک روایات کا ذِکر کرتا ہوں ، 
""""" تختموا بالعقيق فإنه مبارك:::عقیق کی انگوٹھی پہنا کرو کیونکہ وہ مُبارک ہے """"" إِمام العقیلی رحمہُ اللہ نے اس روایت کو ذِکر کرنے کے بعد کہا"""اس روایت کو ابن الجوزی نے "الموضوعات " میں ذِکر کیا ہے اور اس موضوع کے بارے میں (ملنے والی ساری ہی روایات میں سے)کچھ بھی ثابت نہیں ہوتا

""" """""تختموا بالعقيق فإنه ينفي الفقر:::عقیق کی انگوٹھی پہنا کرو کہ عقیق غربت دور کرتا ہے 
""""" """"" تختموا بالعقيق فإنه أنجح للأمر واليمنى أحق بالزينة::: عقیق کی انگوٹھی پہنا کرو کہ عقیق کاموں میں کامیابی والا ہوتا ہے اور دائیں ہاتھ سجاوٹ کا زیادہ حقدار ہے""""" """""من تختم بالعقيق ونقش عليه: وما توفيقي إلا بالله وفقه الله لكل خير وأحبه الملكان الموكلان به ::: جس نے عقیق کی انگوٹھی پہنی اور اس پر یہ نقش کیا کہ :اور مجھے توفیق دینےو الا اللہ ہی ہے :تو اللہ اس کے لیے ہر خیر مہیا کر دیتا ہے اور دونوں مقرر فرشتے اس شخص سے محبت کرنے لگتے ہیں
""""" """"" من تختم بالعقيق ، لم يقض له إلا بالتي هي أحسن:::جس نے عقیق کی انگوٹھی پہنی اس کے صِرف اسی کا فیصلہ کیا جاتا ہے جو بہترین ہوتا ہے
""""" """""تختموا بالزمرد فإنه يسر لا عسر فيه ::: زمرد کی انگوٹھی پہنا کرو کہ زمرد آسانیوں والا ہے اور اس میں کوئی تنگی نہیں 
""""" """"" تختموا بالزبرجد فإنه يسر لا عسر فيه::: زبرجد کی انگوٹھی پہنا کرو کہ زبرجد آسانیوں والا ہے اور اس میں کوئی تنگی نہیں
""""" """"" تختموا بالزمرد فإنه ينفي الفقر:::عقیق کی انگوٹھی پہنا کرو کہ عقیق غربت دور کرتا ہے""""" 

اور اسی قِسم کی دوسری روایات جن میں ان پتھروں کے بارے میں نفع پہنچانے یا تقصان دور کرنے والے ہونے کی خبریں ہیں ، کوئی ایک روایت بھی سچی نہیں ، کوئی ایک روایت بھی حدیث کے طور پر تو کیا اُن بزرگوں سے بھی ثابت نہیں جن سے یہ منسوب کی جاتی ہیں، جیسا کہ اہل تشیع اور صوفیاء حضرات اپنے اپنے اماموں ، اور سلسلوں کے بزرگوں سے اس قسم کی خبریں منسوب کیے ہوئے ہیں ، اور اگر کسی طور یہ خبریں ان اماموں یا بزرگوں سے ثابت بھی ہو جائیں تو بھی یہ خبریں مردود ہیں کیونکہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی طرف سے ان خبروں کی کوئی تصدیق میسر نہیں ، بلکہ یہ خبریں اللہ تبارک و تعالیٰ کے فرامین کے خِلاف ہیں ، 

کیونکہ اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے کہ (((((مَا يَفْتَحِ اللَّهُ لِلنَّاسِ مِنْ رَحْمَةٍ فَلَا مُمْسِكَ لَهَا وَمَا يُمْسِكْ فَلَا مُرْسِلَ لَهُ مِنْ بَعْدِهِ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ::: اللہ تعالیٰ لوگوں کے لیے رحمت میں سے جو کچھ عطاء کرتا ہے ، تو اللہ کے بعد اس رحمت کو روکنے والا کوئی نہیں، اور جس کو اللہ روک لے اسے ( اللہ کے بعد ، مخلوق کی طرف)بھیجنے والا کوئی نہیں ، اور اللہ زبردست ہے حکمت والا ہے)))))سُورت الفاطر(35)/آیت2،
اور ارشاد رفرمایا ہے (((((وَإِنْ يَمْسَسْكَ اللَّهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهُ إِلَّا هُوَ وَإِنْ يُرِدْكَ بِخَيْرٍ فَلَا رَادَّ لِفَضْلِهِ يُصِيبُ بِهِ مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ وَهُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ:::اور اگر اللہ تعالیٰ آپ کو سختی میں ڈال دے تو اُس سختی کو دور کرنے والا سوائے اللہ کے کوئی بھی نہیں ،اور اگر اللہ آپ کو خیر دینا چاہے تو اللہ کے فضل کو دور کرنے والا کوئی بھی نہیں ، اللہ اپنے بندوں میں سےجسے چاہے اپنا فضل عطاء فرماتا ہے اور اللہ بخشنے والا ، رحم کرنے والا ہے)))))سُورت یُونُس(10)/آیت107،

اللہ جلّ جلالہُ کے اِن فرامین کے بعد کسی پتھر یا دھات یا کسی بھی اور مخلوق کو کسی دوسری مخلوق کے لیے کسی مادی ذریعے یا سبب کے بغیر ہی کسی طور کوئی نفع پہنچانے یا کسی نقصان سے بچانے والا سمجھنا سوائے گمراہی اور تباہی کے کچھ اور نہیں ، اللہ تعالیٰ ہم سب کو اور ہر ایک مسلمان کو وہ عقائد اپنانے اور وہ عمل کرنے کی ہمت سے جن پر اللہ راضی ہوتا ہے ، اور ہر گمراہی اور شر سے بچنے کی توفیق عطاء فرمائے ، والسلام علیکم۔

"لا الہ الا اللہ" معنی و مطلب اور مقام و فضیلت


لا الہ میں لا لائے نفی جنس ہے اور الہ اس کا اسم ہے اور خبر مخذوف ہے ،یعنی لا الہ حق (نہیں ہے کوئی معبود برحق)الا اللہ(مگر اللہ)یہ خبر (حق)سے استثناء ہے۔الہکے معنی ہیں،وہ ذات جس کی عبادت میں دل و ارفتہ ہو ۔یعنی اس کی طرف دل مائل ہوں اور حصول نفع یا دفع ضر کے لئے اسی کی طرف رجوع اور رغبت کریں۔یہ کلمہ اثبات اور نفی دو چیزوں کا مجموعہ ہے۔تمام مخلوقات سے الوہیت کی نفی اور اللہ کے لئے الوہیت کا اثبات۔یعنی اللہ تعالیٰ ہی معبود برحق ہےاور اس کے سوا ،مشرکین نے جتنے بھی معبود بنا رکھے ہیں سب باطل ہیں۔ذَٰلِكَ بِأَنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلْحَقُّ وَأَنَّ مَا يَدْعُونَ مِن دُونِهِۦ هُوَ ٱلْبَٰطِلُ وَأَنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلْعَلِىُّ ٱلْكَبِيرُ ﴿62﴾
ترجمعہ: یہ اس لیے کہ حق الله ہی کی ہستی ہے اور جنہیں اس کے سوا پکارتے ہیں وہ باطل ہیں اور بے شک الله ہی بلند مرتبہ بڑائی والا ہے (سورہ الحج،آیت 62)
یہ ترکیب جس میں پہلے نفی ہے پھر اثبات ،مثبت ترکیب اللہ الہ (اللہ معبود ہے)سے زیادہ بلیغ،موژر اور مفہوم کو زیادہ واضح کرنے والی ہے۔اس لئے کہ مثبت ترکیب اللہ کی الوہیت کا اثبات تو کرتی ہے لیکن ماسوا اللہ کی الوہیت کی نفی نہیں کرتی،جبکہ لا الہ الا اللہ کی ترکیب ،الوہیت کو صرف اللہ کے لئے خاص اور دوسروں کی الوہیت کی نفی کر دیتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید میں جہاں بھی اللہ کی عبادت کا حکم ہے تو بالعموم ساتھ ہی غیروں کی عبادت کی نفی بھی ہے ۔جیسے فرمایا:
وَٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا۟ بِهِۦ شَيْا ۖ وَبِٱلْوَٰلِدَيْنِ إِحْسَٰنًۭا وَبِذِى ٱلْقُرْبَىٰ وَٱلْيَتَٰمَىٰ وَٱلْمَسَٰكِينِ وَٱلْجَارِ ذِى ٱلْقُرْبَىٰ وَٱلْجَارِ ٱلْجُنُبِ وَٱلصَّاحِبِ بِٱلْجَنۢبِ وَٱبْنِ ٱلسَّبِيلِ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَٰنُكُمْ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُحِبُّ مَن كَانَ مُخْتَالًۭا فَخُورًا﴿36﴾
ترجمعہ: اور اللہ ہی کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ بناؤ اور ماں باپ اور قرابت والوں اور یتیموں اور محتاجوں اور رشتہ دار ہمسائیوں اور اجنبی ہمسائیوں اور رفقائے پہلو (یعنی پاس بیٹھنے والوں) اور مسافروں اور جو لوگ تمہارے قبضے میں ہوں سب کے ساتھ احسان کرو کہ خدا (احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے اور) تکبر کرنے والے بڑائی مارنے والے کو دوست نہیں رکھتا (سورہ النساء،آیت 36)
لَآ إِكْرَاهَ فِى ٱلدِّينِ ۖ قَد تَّبَيَّنَ ٱلرُّشْدُ مِنَ ٱلْغَىِّ ۚ فَمَن يَكْفُرْ بِٱلطَّٰغُوتِ وَيُؤْمِنۢ بِٱللَّهِ فَقَدِ ٱسْتَمْسَكَ بِٱلْعُرْوَةِ ٱلْوُثْقَىٰ لَا ٱنفِصَامَ لَهَا ۗ وَٱللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ ﴿256﴾
ترجمعہ: دین کے معاملے میں زبردستی نہیں ہے بے شک ہدایت یقیناً گمراہی سے ممتاز ہو چکی ہے پھر جو شخص شیطان کو نہ مانے اور الله پر ایمان لائے تو اس نے مضبوط حلقہ پکڑ لیاجو ٹوٹنے والا نہیں اور الله سننے والا جاننے والا ہے (سورہ البقرہ،آیت 256) 
وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِى كُلِّ أُمَّةٍۢ رَّسُولًا أَنِ ٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ وَٱجْتَنِبُوا۟ ٱلطَّٰغُوتَ ۖ فَمِنْهُم مَّنْ هَدَى ٱللَّهُ وَمِنْهُم مَّنْ حَقَّتْ عَلَيْهِ ٱلضَّلَٰلَةُ ۚ فَسِيرُوا۟ فِى ٱلْأَرْضِ فَٱنظُرُوا۟ كَيْفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلْمُكَذِّبِينَ ﴿36﴾
ترجمعہ: اور ہم نے ہر جماعت میں پیغمبر بھیجا کہ خدا ہی کی عبادت کرو اور بتوں (کی پرستش) سے اجتناب کرو۔ تو ان میں بعض ایسے ہیں جن کو خدا نے ہدایت دی اور بعض ایسے ہیں جن پر گمراہی ثابت ہوئی۔ سو زمین پر چل پھر کر دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا انجام کیسا ہوا (سورہ النحل،آیت 36)
طاغوت کیا ہے جس سے بچنے کا حکم ہے ؟اللہ کے سوا جس کی بھی عبادت یا اطاعت کی جائے ،وہ طاغوت ہے۔یہ ضروری ہے کہ اللہ کی عبادت اور اطاعت کے ساتھ طاغوت کی عبادت سےانکار اور اجتناب کیا جائے۔اور حدیث میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"جس نے کہااللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اللہ کے سوا جن کی عبادت کی جاتی ہے ان سب کا اس نے انکار کیا تو اس کا مال اور جان محفوظ ہو گیا۔"(صحیح مسلم)
اور ہر پیغمبر نے بھی اپنی قوم کو یہی پیغام دیا:
لَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَىٰ قَوْمِهِۦ فَقَالَ يَٰقَوْمِ ٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَٰهٍ غَيْرُهُۥ إِنِّىٓ أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍۢ ﴿59﴾
ترجمعہ: بے شک ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا پس اس نے کہا اے میری قوم الله کی بندگی کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں میں تم پر ایک بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں (سورہ الاعراف،آیت 59)
اور یہی وجہ ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین مکہ سے کہا کہ "لا الہ الا اللہ" کا اقرار کر لو ،تو انہوں نے کہا:
أَجَعَلَ ٱلْءَالِهَةَ إِلَٰهًۭا وَٰحِدًا ۖ إِنَّ هَٰذَا لَشَىْءٌ عُجَابٌۭ ﴿٥﴾
ترجمعہ: کیا اس نے کئی معبودوں کو صرف ایک معبود بنایا ہے بے شک یہ بڑی عجیب بات ہے (سورہ ص،آیت 5)
اس سے معلوم ہوا کہ مشرکین نے یہ بات سمجھ لی تھی کہ اس کلمے کے اقرار کا مطلب ایک اللہ کی عبادت اور تمام بتوں کی عبادت کی نفی ہے۔اور یہ بات ان کو پسند نہیں تھی۔اس لیے اس کے اقرار سے انہوں نے گریز کیا۔
یہ موضوع اس کتاب سے لیا گیا ہے۔

"لا الہ الا اللہ "کی فضیلت



اس کلمے کی فضیلت حسب ذیل احادیث سے واضح ہے۔ایک حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
افضل ذکر "
لا الہ الا اللہ" ہے اور افضل دعا "الحمدللہ" ہے۔(جامع الترمذی)
ایک دوسری حدیث میں ہے:
بہترین دعا یوم عرفہ کی دعا ہے اور بہترین بات جو میں نے اور مجھ سے پہلے پیغمبروں نے کہی وہ "
لا الہ الا اللہ" ہے وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اسی کے لیے بادشاہی ہے اور اسی کے لیے حمد ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔(جامع الترمذی)
تیسری حدیث جس کا تعلق قیامت کے دن حساب کتاب سے ہے اس سے بھی اس کلمہ طیبہ کی فضیلت کا اثبات ہوتا ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"قیامت کے دن اللہ تعالیٰ میرے ایک امتی کو برسر خلائق نجات عطا فرمائے گا ۔اللہ ننانوے رجسٹر کھول کر اس کے سامنے رکھ دے گا ہر رجسٹر کا طول و عرض حد نگاہ تک ہو گا۔پھر اللہ تعالیٰ کہے گا!کیا تو اس میں درج باتوں میں سے کسی کا انکار کرتا ہے ؟یا تیرے خیال میں میرے لکھنے والے محافظین نے تجھ پر ظلم کیا ہے؟وہ امتی کہے گا!نہیں،اے میرے رب!اللہ فرمائے گا :کیا تیرے پاس کوئی عذر ہے؟وہ کہے گا:نہیں،اے میرے رب!اللہ تعالیٰ فرمائے گا :کیوں نہیں،ہمارے پاس تیری ایک نیکی ہے بلاشبہ آج تجھ پر کوئی ظلم نہیں ہو گا۔پھر کاغذ کا ایک ٹکڑا نکالا جائے گا جس پر یہ درج ہو گا۔میں گواہی دیتا ہوں اس بات کی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)اس کے بندے اور رسول ہیں۔اللہ کہے گا:دونوں کا وزن کیا جاتا ہے،تو دیکھ!امتی کہے گا:اے میرے رب!اس ٹکڑے کی ان رجسٹروں کے سامنے کیا حیثیت ہے؟اللہ فرمائے گا!تجھ پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔پس سارے رجسٹر ترازو کے ایک پلڑے میں رکھ دیے جائیں گے اور کلمہ شہاد ت والا کاغذ کا ٹکڑا دوسرے پلڑے میں رکھ دیا جائے گا۔لیکن قطعہ کاغذ والا پلڑا بھاری اور رجسٹروں والا پلڑا ہلکا ہو جائے گا۔(اس لیے کہ )اللہ کے نام کے مقابلے میں کوئی چیز بھاری نہیں ہو سکتی۔(
ترمذی)
ایک اور حدیث میں ہے ،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ حضرت نوح علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو دو باتوں کی وصیت فرمائی ،ان میں سے ایک بات یہ تھی کہ میں تجھے "
لا الہ الا اللہ" کا حکم دیتا ہوں۔پھر اس کی درج ذیل فضیلت بیان فرمائی:
"ساتوں آسمان اور ساتوں زمینیں اگر ایک پلڑے میں اور "
لا الہ الا اللہ" دوسرے پلڑے میں رکھا جائے ،تو یہ دوسرا پلڑا اس کلمے کی وجہ سے بھاری ہو جائے گااور اگر ساتوں آسمان اور ساتوں زمینیں ایک بند حلقہ ہوں تو "لا الہ الا اللہ" ان کو توڑ دے گا۔(مسند احمد 2/170و سلسلہ احادیث الصحیحۃ للبانی :1/259،ح134)
مذکورہ احادیث سے کلمہ "
لا الہ الا اللہ" کی فضیلت واضح ہے۔

ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا


ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا از میمونہ ظفر ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ہمدم سید المرسلین محمد صلی اﷲ علیہ وسلم ، جگر گوشہ خلیفة المسلمین، شمع کاشانہء نبوت، آفتاب رسالت کی کرن، گلستان نبوت کی مہک، مہر ووفا اور صدق وصفا کی دلکش تصویر، خزینہ ئِ رسالت کا انمول ہیرا، جس کی شان میں قرآنی آیات نازل ہوئیں ۔ جس کو تعلیمات نبوی محمد صلی اﷲ علیہ وسلم پر عبور حاصل تھا ۔ جسے اپنی زندگی میں لسان رسالت سے جنت کی بشارت ملی۔ جسے ازواج مطہرات میں ایک بلند اور قابل رشک مقام حاصل تھا۔ جو فقاہت، ثقاہت ، امانت ودیانت کے اعلیٰ معیار پر فائز تھیں۔ ولادت : حضرت ام رومان کا پہلا نکاح عبداللہ ازدی سے ہوا تھا۔ عبداللہ کے انتقال کے بعد وہ ابوبکر کے عقد میں آئیں ۔ حضرت ابوبکر کے دو بچے تھے ۔ عبدالرحمن اور عائشہ ۔حضرت عائشہ کی تاریخ ولادت سے تاریخ وسیر کی تمام کتابیں خاموش ہیں ۔ ان کی ولادت کی صحیح تاریخ نبوت کے پانچویں سال کا آخری حصہ ہے۔ نام : نام عائشہ تھا ۔ ان کا لقب صدیقہ تھا ۔ ام المومنین ان کا خطاب تھا ۔ نبی مکرم محمد صلی اﷲ علیہ وسلم نے بنت الصدیق سے بھی خطاب فرمایا ہے ۔اور کبھی کبھار حمیرا سے بھی پکارتے تھے۔ کنیت : عرب میں کنیت شرافت کا نشان ہے ۔ چونکہ حضرت عائشہ کے ہاں کوئی اولاد نہ تھی۔ اس لیے کوئی کنیت بھی نہ تھی۔ ایک دفعہ آنحضرت محمد صلی اﷲ علیہ وسلم سے حسرت کے ساتھ عرض کیا کہ اور عورتوں نے تو اپنی سابق اولادوں کے نام پر کنیت رکھ لی ہے ، میں اپنی کنیت کس کے نام پر رکھوں؟ فرمایا : اپنے بھانجے عبداللہ کے نام پر رکھ لو''۔ چنانچہ اسی دن سے ام عبداللہ کنیت قرار پائی۔ نکاح: ہجرت سے ٣ برس پہلے سید المرسلین سے شادی ہوئی۔ ٩ برس کی عمر میں رخصتی ہوئی ۔ سیدہ عائشہ کے علاوہ کسی کنواری خاتون سے نبی کریم محمد صلی اﷲ علیہ وسلم نے شادی نہیں کی ۔ ابھی ان کا بچپن ہی تھا کہ جبریل علیہ السلام نے ریشم کے کپڑے میں لپیٹ کر ان کی تصویر رسول اللہ محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کو دکھلائی اور بتایا کہ یہ آپ محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کی دنیا وآخرت میں رفیقہ ئِ حیات ہے۔ سیدہ عائشہ کا مہر بہت زیادہ نہ تھا صرف 500 درہم تھا ۔ فضائل وکمالات: حضرت عمرو بن عاص نے ایک دفعہ رسول اقدس محمد صلی اﷲ علیہ وسلم سے پوچھا : یا رسول اللہ ! آپ کو دنیا میں سب سے زیادہ محبوب کون ہے؟ فرمایا : ''عائشہ'' عرض کی مردوں میں کون ہے؟ فرمایا : اس کا باپ ۔ ایک دفعہ حضرت عمر نے اپنی بیٹی حضرت حفصہ ام المومنین کو سمجھاتے ہوئے کہا :بیٹی عائشہ کی ریس نہ کیا کرو ، رسول اللہ محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کے دل میں اس کی قدر ومنزلت بہت زیادہ ہے ۔ رسول اللہ محمد صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا : ''مردوں میں بہت کامل گزرے لیکن عورتوں میں سے مریم بنت عمران اور آسیہ زوجہ فرعون کے سوا کوئی کامل نہ ہوئی اور عائشہ کو عورتوں پر اسی طرح فضیلت ہے جس طرح ثرید کو تمام کھانوں پر''۔ امام ذہبی لکھتے ہیں کہ سیدہ عائشہ پوری امت کی عورتوں سے زیادہ عالمہ ، فاضلہ ، فقیہہ تھیں ۔ عروہ بن زبیر کا قول ہے : میں نے حرام وحلال ، علم وشاعری اور طب میں ام المومنین عائشہ سے بڑھ کر کسی کو نہیں دیکھا۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ میں فخر نہیں کرتی بلکہ بطور واقعہ کے کہتی ہوں کہ اللہ نے دنیا میں ٩ باتیں ایسی صرف مجھ کو عطا کی ہیں جو میرے سوا کسی کو نہیں ملیں ۔ 1۔ خواب میں فرشتے نے آنحضرت محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کے سامنے میری صورت پیش کی۔ 2۔ جب میں سات برس کی تھی تو آپ محمد صلی اﷲ علیہ وسلم نے مجھ سے نکاح کیا ۔ 3۔ جب میرا سن ٩ برس کا ہوا تو رخصتی ہوئی ۔ 4۔ میرے سوا کوئی کنواری بیوی آپ محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں نہ تھی ۔ 5۔ آپ محمد صلی اﷲ علیہ وسلم جب میرے بستر پر ہوتے تب بھی وحی آتی تھی ۔ 6۔ میں آپ محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کی محبوب ترین بیوی تھی ۔ 7۔ میری شان میں قرآن کی آیتیں اتریں ۔ 8۔ میں نے جبریل کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ۔ 9۔ آپ محمد صلی اﷲ علیہ وسلم نے میری گود میں سر رکھے ہوئے وفات پائی۔ حضرت عائشہ اور احادیث نبوی : ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ کو علمی صداقت اور احادیث روایت کرنے کے حوالے سے دیانت وامانت میں امتیاز حاصل تھا ۔سیدہ عائشہ کا حافظہ بہت قوی تھا ۔ جس کی وجہ سے وہ حدیث نبوی کے حوالے سے صحابہ کرام کے لیے بڑا اہم مرجع بن چکی تھیں ۔ حضرت عائشہ حدیث حفظ کرنے اور فتویٰ دینے کے اعتبار سے صحابہ کرام سے بڑھ کر تھیں۔سیدہ عائشہ نے دو ہزار دو سو دس (2210) احادیث روایت کرنے کی سعادت حاصل کی ۔ دور نبوی کی کوئی خاتون ایسی نہیں جس نے سیدہ عائشہ سے زیادہ رسول اللہ محمد صلی اﷲ علیہ وسلم سے احادیث روایت کرنے کی سعادت حاصل کی ہو ۔ صدیقہ کائنات سے ایک سو چوہتر (174) احادیث ایسی مروی ہیں جو بخاری ومسلم میں ہیں ۔ وفات : سن ٥٨ ہجری کے ماہ رمضان میں حضرت عائشہ بیمار ہوئیں اور انہوں نے وصیت کی کہ انہیں امہات المومنین اور رسول اللہ محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کے اہل بیت کے پہلو میں جنت البقیع میں دفن کیا جائے ۔ماہ رمضان کی 17تاریخ منگل کی رات ام المومنین عائشہ نے وفات پائی ۔ وفات کے وقت ان کی عمر 66 برس تھی۔ 18سال کی عمر میں بیوہ ہوئی تھیں ۔ حضرت ابوہریرہ نے نماز جنازہ پڑھائی۔

اخلاق نبوی


وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ ﴿٤﴾ سورة القلم اور بیشک تو بہت بڑے (عمده) اخلاق پر ہے (4) سیدنا معاویہ ابن حکم سلمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ رہا تھا کہ اسی دوران جماعت میں سے ایک آدمی کو چھینک آئی تو میں نے (یَرحَمُکَ اللہ) کہہ دیا تو لوگوں نے مجھے گھورنا شروع کر دیا میں نے کہا کاش کہ میری ماں مجھ پر رو چکی ہوتی تم مجھے کیوں گھور رہے ہو یہ سن کر وہ لوگ اپنی رانوں پر اپنے ہاتھ مارنے لگے پھر جب میں نے دیکھا کہ وہ لوگ مجھے خاموش کرانا چاہتے ہیں تو میں خاموش ہوگیا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے فارغ ہو گئے میرا باپ اور میری ماں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر قربان میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے نہ ہی آپ کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بہتر کوئی سکھانے والا دیکھا اللہ کی قسم نہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے جھڑکا اور نہ ہی مجھے مارا اور نہ ہی مجھے گالی دی پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ نماز میں لوگوں سے باتیں کرنی درست نہیں بلکہ نماز میں تو تسبیح اور تکبیر اور قرآن کی تلاوت کرنی چاہئے میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول میں نے زمانہ جاہلیت پایا ہے اور اللہ تعالیٰ نے مجھے اسلام کی دولت سے نوازا ہے ہم میں سے کچھ لوگ کاہنوں کے پاس جاتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم ان کے پاس نہ جاؤ میں نے عرض کیا ہم میں سے کچھ لوگ برا شگون لیتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اس کو وہ لوگ اپنے دل میں پاتے ہیں ( دل کے بہلانے کی بات ہے ) تم اسطرح نہ کرو پھر میں نے عرض کیا ہم میں سے کچھ لوگ لکیریں کھینچتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا انبیا کرام میں سے ایک نبی بھی لکیریں کھیچتے تھے تو جس آدمی کا لکیر کھینچھنا اس کے مطابق ہو وہ صحیح ہے۔ (لیکن اس طرح لکیر کھینچنا کسی کو معلوم نہیں اس لیے حرام ہے) راوی معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میری ایک لونڈی تھی جو احد اور جوانیہ کے علاقوں میں میری بکریاں چرایا کرتی تھی ایک دن میں وہاں گیا تو دیکھا کہ ایک بھیڑیا میری ایک بکری کو اٹھا کر لے گیا ہے آخر میں بھی بنی آدم سے ہوں مجھے بھی غصہ آتا ہے جس طرح کہ دوسرے لوگوں کو غصہ آجاتا ہے میں نے اسے ایک تھپڑ مار دیا پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آیا مجھ پر یہ بڑا گراں گزرا اور میں نے عرض کیا کیا میں اس لونڈی کو آزاد نہ کر دوں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اسے میرے پاس لاؤ میں اسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے آیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ اللہ کہاں ہے اس لونڈی نے کہا آسمان میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے پوچھا میں کون ہوں اس لونڈی نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے رسول ہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس لونڈی کے مالک سے فرمایا اسے آزاد کر دے کیونکہ یہ لونڈی مومنہ ہے۔ صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 1194کتاب: مساجد اور نماز پڑھنے کی جگہوں کا بیان : نماز میں کلام کی حرمت اور کلام کے مباح ہونے کی تنسیخ کے بیان میں سیدناانس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ چل رہا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر موٹے کناروں والی نجرانی چادر تھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک دیہاتی ملا اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چادر کے ساتھ بہت شدت و سختی کے ساتھ کھنچا جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گردن مبارک پر چادر کی کناری کا نشان پڑ گیا اور یہ کناری کا نشان اس کے سختی کے ساتھ کھینچے کی وجہ سے پڑا پھر اس نے کہا اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے مال میں سے جو تیرے پاس ہے میرے لئے حکم کرو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی طرف دیکھ کر مسکرائے پھر اسے کچھ دینے کا حکم فرمایا۔ صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 2422 کتاب : زکوۃ کا بیان سیدنا انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مسجد میں بیٹھے تھے کہ اتنے میں ایک دیہاتی آیا اور مسجد میں پیشاب کرنے کھڑا ہو گیا تو اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ٹھہر جا ٹھہر جا! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اس کو مت روکو اور اس کو چھوڑ دو پس صحابہ نے اس کو چھوڑ دیا یہاں تک کہ اس نے پیشاب کر لیا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو بلوایا اور اس کو فرمایا کہ مساجد میں پیشاب اور کوئی گندگی وغیرہ کرنا مناسب نہیں یہ تو اللہ عزوجل کے ذکر اور قرآن کے لئے بنائی گئی ہیں یا اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشا فرمایا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کو حکم دیا تو وہ ایک ڈول پانی کا لے آیا اور اس جگہ پر بہا دیا۔ صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 661 وضو کا بیان : پیشاب یانجاست وغیرہ اگر مسجد میں پائی جائیں تو ان کے دھونے کے وجوب اور زمین پانی سے پاک ہو جاتی ہے اور اس کو کھودنے کی ضرورت نہیں کے بیان میں اور سنن ابو داؤد میں ہے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کہتے ہیں : کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوئے ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کھڑے ہوگئے تو (وہ) اعرابی نے نماز میں یہ دعا پڑھی اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي وَمُحَمَّدًا وَلَا تَرْحَمْ مَعَنَا أَحَدًا الخ یعنی اے اللہ مجھ پر رحم کر اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحم کر اور ہمارے ساتھ کسی اور پر رحم نہ کر) جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلام پھیرا تو اس اعرابی سے فرمایا تو نے اللہ تعالیٰ کی وسیع رحمت کو محدود کردیا۔ سنن ابوداؤد:جلد اول:حدیث نمبر 880 نماز کا بیان : نماز میں دعا مانگنے کا بیان

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنھما کے دو خواب !!


سیدنا ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنھما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی مبارک میں
کوئی آدمی جو بھی خواب دیکھتا
اسے رسول اللہ کے سامنے بیان کرتا
میرے دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ مجھے بھی کوئی خواب آئے
اور میں غیرشادی شدہ نوجوان تھا
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارک میں
میں مسجد میں سویا کرتا تھا پس میں نے نیند میں دیکھا
گویا کہ دو فرشتوں نے مجھے پکڑا اور مجھے دوزخ کی طرف لے گئے
تو وہ کنوئیں کی دو لکڑیوں کی طرح لکڑیاں بھی تھیں
اور اس میں لوگ تھے جنہیں میں پہچانتا تھا پس میں نے

(اَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ النَّارِ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ النَّارِ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ النَّارِ)
میں آگ سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں دہرانا شروع کر دیا
ان دو فرشتوں کو ایک اور فرشتہ ملا تو اس نے مجھ سے کہا
تو خوف نہ کر پس میں نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنھا سے اس کا تذکرہ کیا
تو سیدہ حفصہ رضی اللہ عنھا نے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
عبداللہ کتنا اچھا آدمی ہے کاش یہ اٹھ کر رات کو نماز پڑھے
سیدنا سالم نے کہا اس کے بعد سیدناعبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ
رات کو تھوڑی دیر ہی سویا کرتے تھے۔
صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 1869 فضائل کا بیان :
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنھما کے فضائل کے بیان میں



سیدنا ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے
کہ میں نے خواب میں دیکھا
گویا کہ میرے ہاتھ میں استبرق کا ایک ٹکڑا ہے
اور جنت کے جس مکان کی طرف میں جانے کا ارادہ کرتا ہوں
وہ مجھے اڑا کر اس جگہ لےجاتا ہے
پس میں نے پورا قصہ
سیدہ حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کےسامنے بیان کیا
پھر سیدہ حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے
نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا
تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا
میرا خیال ہے کہ عبداللہ ایک نیک آدمی ہوں گے۔
صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 1868 فضائل کا بیان :
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنھما کے فضائل کے بیان میں

قرآن مجید سیکھنے کی فضلیت


 
عن عقبہ بن عامر الجہینی (رضی اﷲ عنہ) قال: خرج علینا رسول اﷲ ونحن فی الصفہ فقال: ایکم یحب ان یغدو الی بطحان او العقیق فیاخذنا قتین کوما وین زہراوین بغیر اثم باﷲ عزوجل ولد قطع رحم؟ قالوا: کلنا یا رسول اﷲ، قال: فلان یغدو احدکم کل یوم الی المسجد فیتعلم ایتین من کتاب اﷲ عزوجل خیر لہ من ناقتین، وان ثلاث و ثلاث مثا اعدادھن من الابل (رواہ ابوداؤد)
عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہتے ہیں:

ہم صفہ میں تھے کہ رسول اللہ ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا:

”تم سے کس کس کے جی کو بھاتا ہے کہ وہ روز صبح سویرے بطحان یا عقیق (مدینے سے نکلتے ہی پاس کے علاقے) میں جایا کرے اور دو موٹی تازی فربہ کوہان کو اونٹنیاں مفت میں پکڑ لایا کرے۔ نہ اس پر کوئی گناہ آئے اور نہ قطع رحم؟“

صحابہ نے عرض کی: یہ تو ہم سب کو پسند ہے اے اللہ کے رسول: فرمایا:

”تو پھر تم میں سے کوئی شخص صبح مسجد میں کتاب اللہ کی دو آیتیں سیکھ آیا کرے وہ دو ایسی اونٹنیاں مفت میں پکڑ لانے سے کہیں افضل ہے۔ اور اگر تین ہوں تو تین۔ جتنی آیتیں ہوں وہ اتنی ہی اونٹنیوں سے زیادہ نفع آور ہیں“!!!