::: فرضیتِ وضوء :::
::: قُران میں سے دلیل ::: اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے (یَا اَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا اِذَا قُمتُم اِلَی الصَّلاۃِ فاغسِلُوا وُجُوہَکُم وَاَیدِیَکُم اِلَی المَرَافِقِ وَامسَحُوا بِرُؤُوسِکُم وَاَرجُلَکُم اِلَی الکَعبَینِ )(اے لوگو جو ایمان لائے ہو جب تم نماز کے اٹھو تو اپنے چہروں کو دھو لو اور اپنے ہاتھوں کو کہنیوں تک دھو لواور اپنے سر کا مسح کرو اور اپنے پیروں کو ٹخنوں تک دھو لو) سورت المائدہ آیت ٦،
::: سُنّت میں سے دلیل ::: (١) ::: ابو ہُریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ( لَا تُقبَلُ صَلَاۃُ من اَحدَث َ حتی یَتَوَضَّاَ ) ( جِس کو حدث (اصغر)ہو جائے اُس کی نماز اُس وقت تک قُبُول نہیں ہوتی جب تک وہ وضوء نہ کر لے ) صحیح بخاری /حدیث١٣٥ /کتاب الوضوء / باب ٢ ،
اور صحیح مُسلم کے روایت کے اِلفاظ ہیں(لَا تُقبَلُ صَلَاۃُ اَحَدِکُم اِذا اَحدَث َ حَتٰی یَتَوَضَّاَ ) ( اگر تم لوگوں میں سے کوئی کِسی کو حدث (اصغر)ہو جائے تو اُسکی نماز اُس وقت تک قبول نہیں ہوتی جب تک کہ وہ وضوء نہ کر لے ) صحیح مسلم /حدیث ٢٢٥ /کتاب الطہارۃ /باب٢
::: دلیل (٢) ::: عبداللہ ابن عُمر رضی اللہ عنہما کا کہنا ہے ،میں نے رسول اللہ صلی سے سُنا ( لَا تُقبَلُ صَلَاۃٌ بِغَیرِ طُہُورٍ ولا صَدَقَۃٌ من غُلُولٍ)( طہارت (پاکیزگی ) کے بغیر نماز قُبُول نہیں ہوتی اور نہ ہی مالِ غنیمت میں سے خیانت کر کے لیے گئے مال میں سے صدقہ (قُبُول ہوتا ہے)) صحیح مُسلم / حدیث ٢٢٤ /کتاب الطہارۃ /باب٢
سنن کی کتابوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ مندرجہ بالا اِلفاظ بکثرت روایات میں ملتے ہیں ، جِن کے ذریعے سے یہ واضح حُکم ملتا ہے کہ اگر کوئی وضو کی حالت میں نہیں ہے اور وضو کیے بغیر اس نے نماز ادا کی ہے تو اللہ کے ہاں اس کی نماز ادا نہیں ہوئی۔ یعنی ، نماز کی ادائیگی کے لیے وضوء کی حالت میں ہونا شرط ہے ، ( نماز کی شروط کے بارے میں ایک الگ درس ہو چکا ہے)
مندرجہ بالا احادیث میں ''' حدث ''' اِستعمال ہوا ہے ، ''' حدث ''' کی دو کیفیات ہوتی ہیں ،
''' حدث اکبر''' اور''' حدث اصغر''' ، جن کے وارد ہونے سے مسلمان پاکیزگی کے حکم سے خارج ہوجاتا ہے ''' حدث اصغر''' کا تعارف ''' غُسل ''' والے مضمون میں کروایا جا چکا ہے ، اور اِنشاء اللہ ''' حدث اکبر ''' کا تعارف''' طہارت اور نجاست '''کی بُنیادی تفصیل اُن کے مُقام و موقع پر بیان کروں گا جو کہ ان چیزوں کو سمجھنے کے لئیے ضروری ہے کہ نجاست اور طہارت کیا ہے ؟اور حدث اکبر اور حدث اصغریعنی بڑی پلیدگی اور چھوٹی پلیدگی کیا ہے؟
::: فرضیتِ وضوء کی تیسری دلیل ::: یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر آج تک امت کا اجماع ہے اور کسی بھی مذہب کسی بھی فقہ میںاس کے لئیے اختلاف نہیں ہے کہ وضوء کیے بغیر طہارت اختیار کی جا سکتی ہے ،
وضوء کی فضیلت میں بہت سی احادیث وارد ہوئیں ہیں لیکن موضوع کو مختصر رکھتے ہوئے میں اِن احادیث کا یہاں ذکر نہیں کرتا کیونکہ یہ مضمون اس وقت صرف وضوء کی کیفیت یعنی وضو کے طریقہ کے بارے میں ہے ،
وضوء کے طریقوں کو سمجھنے کے لیے ہم اِس کو دو حصوں میں تقسیم کرتے ہیں:::
::: (١) وضوء کے فرائض ::: وہ کام جو اللہ تعالیٰ نے مندرجہ بالا آیتِ وضوء میں بیان فرمائے ہیں ،
::: (٢) وضوء کی سنتیں ::: وضوء میں وہ کام جو آیتِ وضو میں نہیں ہیں لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیے ہیں ۔
::::: وضو کے فرائض :::::
::: (١) پہلا فرض ::: جو کہ صرف وضو کے لئیے ہی نہیں بلکہ بہت سے کاموں میں فرضیت کا حکم رکھتا ہے، وہ ہے ::: نیت ::: یعنی جب کوئی شخص اٹھ کر اپنے چہرے، ہاتھوں ،پیروں کو دھوتا ہے تو اِس کے دل میں یہ اِرادہ ہونا چاہئیے کہ وہ اس خاص ترتیب سے جو عمل کر رہا ہے وہ وضوء ہے اور نجاست سے طہارت میں داخل ہونے کے لیے وہ یہ عمل کر رہا ہے،
::: مسئلہ ::: یہ بات بہت اچھی طرح ذہن نشین ہونی چاہیے اور ہمیشہ رہنی چاہیے کہ نیت کی جگہ دل ہے ، کیونکہ نیت کا مطلب اِرادہ ہوتا ہے اور اِرادہ دِل میں ہوتا ہے، کِسی بھی عِبادت کے لیے زُبان سے نیت ادا کرنے کی کوئی دلیل ہمیں قرآن اور صحیح ثابت شدہ احادیث حدیث میں نہیں ملتی ، کچھ لوگ حج کے تلبیہ کو زُبانی نیت کی دلیل کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں جب کہ تلبیہ کے الفاظ صاف صاف بتاتے ہیں کہ یہ نیت نہیں ہے بلکہ جب کوئی مُسلمان اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی طرف سے ادائیگی حج کے حکم پرلبیک کہتے ہوئے نکلتا ہے تواللہ کے حُکم کا جواب دیتا ہے، بہرحال یہ اِس وقت ہمارا موضوع نہیں اس موضوع پر میری کتاب ''' عمرہ اور حج رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ پر''' میں کچھ تفصیل لکھی گئی ہے اِس کو پڑھنا انشاء اللہ تعالی مفید ہو گا ،
::: (٢) وضوکے فرائض میں سے دوسرا فرض ہے کہ ::: چہرے کو دھویا جائے ::: اور دھونے کا مطلب ہے کہ پانی کو چہرے پر اچھی طرح سے بہایا جائے ، یاد رہے کہ، لمبائی میں پیشانی سے لے تھوڑی اور داڑھوں کے نیچے تک کے حصہ کو ، اور چوڑائی میں ایک کان سے لے کر دوسرے کان کے آغاز تک کے حصہ کوچہرہ کہا جاتا ہے،
::: (٣) وضوء کے فرائض میں سے تیسرا فرض ہے ::: دونوں ہاتھوں کوکُہنیوں تک دھویا جائے ::: کندھے سے ہاتھ کی طرف پہلا جوڑ جو بازو کے درمیان میں ہوتا ہے کُہنی کہلاتا ہے۔
::: (٤) وضوء کے فرائض میں سے چوتھا فرض ہے::: سر کا مسح کرنا::: یعنی وضوء کرتے ہوئے گیلے ہاتھوں کو سر پر پھیرا جائے ،
:::مسح کرنے کا طریقہ ::: عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہُ سے کِسی نے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کِس طرح وضوء کیا کرتے تھے تو اُنہوں نے پورا طریقہ بتاتے ہوئے کہا (،،،،، ثُمَّ مَسَحَ رَاسَہ ُ بِیَدَیہِ فَاَقبَلَ بِہِمَا وَاَدبَرَ بَدَاَ بِمُقَدَّمِ رَاسِہِ حتی ذَہَبَ بِہِمَا اِلی قَفَاہُ ثُمَّ رَدَّہُمَا اِلیَ المَکَانِِ الذِی بَدَاَ مِنہ ُ،،،،، ) ( ،،،،، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں سے سرکا مسح کیا ، مسح کا آغاز سر کے اگلے حصے سے کیا ( یعنی پیشانی کے بعد جہاں سے سر کا آغاز ہوتا ہے وہیں سے مسح کا آغاز کیا جائے گا) اور دونوں ہاتھوں کو پیچھے تک لے گئے اور پھر واپس جہاں سے مسح کا آغازکیا تھا وہاں لے آئے ،،،،، ) صحیح البُخاری / حدیث ١٨٣/کتاب الوضوء / باب ٣٧ ، صحیح مُسلم / حدیث ٢٣٥ / کتاب الطہارۃ /باب ٧،
::: مسئلہ (١) ::: عِمامہ ، خِمار ، ٹوپی وغیرہ پر مسح کرنا ::: یعنی :::
اگر مسح کرتے ہوئے سر پر کوئی ٹوپی یا کپڑا وغیرہ ہے اور وضوء کرنے والا اسے اُتارنا نہیں چاہتا تو وہ اسی پر مسح کر سکتا ہے،
::: دلیل (١) ::: عَمرو بن امیہ رضی اللہ تعالی عنہ کا کہنا ہے کہ( رایتُ النَّبیَ صَلّی اللَّہ ُ عَلِیہ وسَلمَ یَمسَحُ علی عِمَامَتِہِ ) (میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے عِمامہ پر مسح کرتے ہوا دیکھا ہے) صحیح البُخاری / حدیث ٢٠٢/کتاب الوضوء / باب ٤٧ ،
::: دلیل (٢) ::: سر پر رکھی ہوئی چادر (خِمار)کے بارے میں الگ سے بھی بلال رضی اللہ عنہُ سے روایت کہ (اَنَّ رَسُولَ اللَّہِ صَلّی اللَّہ ُ عَلِیہِ وسَلمَ مَسَحَ علی الخُفَّینِ وَالخِمَارِ ) ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چمڑے کے موزوں پر اور سر پر رکھی جانے والی چادر پر مسح کیا ) صحیح مُسلم / حدیث ٢٧٥ / کتاب الطہارۃ /باب٢٣، سنن ابن ماجہ / حدیث ٥٦١ /کتاب الطہارۃ و سننھا / باب ٨٩ کی پہلی حدیث، صحیح سنن ابن ماجہ ٤٥٥،
::: قابلِ غور ::: عِمامہ سے مراد صِرف روایتی قِسم کی وہ ایک پگڑی نہیں ہے جِسے ہم عمامہ شریف کہتے اور سمجھتے ہیں، کیونکہ العِمامۃ ، مِن لباس الراس المعروفۃ، و ھی ما تعم الراس ، یعنی ، عِمامہ سر کے معروف لباسوں میں سے وہ چیز ہے جوپورے سر کو ڈھانپے رکھے، لہذا اگر کسی نے سر پر کپڑا لے رکھاہے یا لپیٹ رکھا ہے یا باندھا ہوا ہے ، تو یہ تینوں کیفیات عمامہ کی ہیں ، اور ٹوپی بھی اِسی حُکم میں داخل ہے ، اور '' خِمار ''' اُس چادر کو کہتے ہیں جسے سر پر باندھے بغیر رکھا جاتا ہے،
::: یاد دھانی ::: اِن سب چیزوں پر اُسی طریقے سے مسح کیا جا ئے گا، جو طریقہ ابھی عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہُ والی روایت میں بیان ہوا ہے،
::: مسئلہ(٢) ::: سر( اور کانوں) کا مسح ایک دفعہ سے زیادہ بھی کیا جا سکتا ہے :::
عام طور پر یہ خیال کیا جاتاہے کہ سر( اور کانوں ) کا مسح ایک ہی دفعہ کیا جائے گا ، خواہ اعضاءِ وضوء دو دو دفعہ دھوئے جائیں یا تین تین دفعہ ، بلکہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ایک دفعہ سے زیادہ مسح کرنا جائز نہیں ، مگر یہ دونوں باتیں دُرست نہیں ، سر (اور کانوں) کا مسح بھی تین دفعہ کیا جا سکتا ہے ،
عام معمول میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر (اور کانوں) کا مسح ایک دفعہ کیا کرتے تھے ، اِس لیے ایک دفعہ کی روایات زیادہ ہیں ، پس دونوں قِسم کی روایات پر عمل کرتے رہنا چاہیئے ، اور وہ یوں کہ عام طور پر تو ایک دفعہ مسح کیا جائے اور کبھی کبھی تین دفعہ ، تا کہ دونوں سُنّتوں پر عمل ہو جائے ،
::: دلیل ::: شفیق بن سمرہ رحمہُ اللہ سے کا کہنا ہے کہ ( رایت عُثمَانَ بن عَفَّانَ (رَضِی اللَّہ ُ عنہ ُ)غَسَلَ ذِرَاعَیہِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا وَمَسَحَ رَاسَہُ ثَلَاثًا ثُمَّ قال ::: رایت رَسُولَ اللَّہِ صَلَی اللَّہ ُ عَلِیہِ وَسَلَّم َ فَعَلَ ہذا ::: ) ( میں نے عُثمان بن عفان (رضی اللہ عنہُ کو وضوء کرتے ہوئے دیکھا کہ) اُنہوں نے اپنی کلائیاں تین تین دفعہ دھوئِیں اور اپنے سر کا تین دفعہ مسح کیا اور پھر فرمایا ::: میں نے رسول اللہ صلی اللہ عَلیہ وسلم کو ایسا ہی کرتے ہوئے دیکھا ::: ) سنن ابی داؤد / حدیث ١١٠ ، اور حمران رضی اللہ عنہُ سے بھی یہ روایت ہے /حدیث ، ١٠٧ ،دونوں روایات کو اِمام الالبانی نے صحیح قرار دِیا ، مزید تفصیل ''' فتح الباری ''' اور ''' سُبل السّلام ''' اور ''' تمام المنۃ /ص٩١ ''' میں میسر ہے ،
::: مسئلہ(٣) ::: سر کے ساتھ ساتھ پیشانی کا مسح بھی کیا جا سکتا ہے ،
::: دلیل ::: مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہُ سے روایت ہے کہ (اَنَّ النبی صَلّی اللَّہ ُ عَلِیہِ وسَلمَ تَوَضَّاَ فَمَسَحَ بِنَاصِیَتِہِ وَعَلَی العِمَامَۃِ وَعَلَی الخُفَّینِ )( نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور اپنی پیشانی اپنے امامہ اور اپنے چمڑے کے موزوں پر مسح کیا ) صحیح مُسلم / حدیث ٢٧٤ / کتاب الطہارۃ /باب ٢٣
::: مزید قابلِ غور ::: اس چیز کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی ثبوت نہیں ملتا کہ انہوں نے سر کے کچھ حصوں پر مسح کیا ہو جیسے کہ اکثر مسلمانوں میں یہ چیز نظر آتی ہے کہ ہاتھوں میں نیا پانی لیتے ہیں اور اس کو جھٹکتے ہوئے اپنے ہاتھوں کی انگلیوں کی پہلی پوروں کو پیشانی کے سامنے والے حصہ میں تین دفعہ کبوتر کی چونچ کی طرح مار کر مسح کر لیتے ہیں، یا بالوں کی سامنے والی لِٹ (پف) پر ہلکا ہلکا سا مسح کر لیتے ہیں تاکہ بال بھی نہ خراب ہوں اور مسح بھی ہو جائے ، راضی رہے رحمان بھی اور خوش رہے شیطان بھی ، اِنَّا لِلّہِ وَاِنَّا اِلیہِ رَاجِعُونَ ، یا سر کے کچھ حصے پر ہاتھ پھیر لیتے ہیں ، سر کے مسح کے یہ سب طریقے خِلافِ سُنّت ہیں، سر اور سر ڈھانپنے والی چیزوں کا ایک اکیلا طریقہ صِرف وہی ہے جوابھی عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہُ والی حدیث میں بیان ہوا ہے ۔
::: مسئلہ(٤) ::: سر کے مسح کے لیے ہاتھوں پر نیا پانی بھی لگایا جا سکتا ہے ،
:::دلیل ::: عبداللہ بن ابو زید رضی اللہ عنہُ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضوء کا طریقہ بتاتے ہوئے کہتے ہیں ( ،،،،، وَمَسَحَ بِرَاسِہِ بِمَاءٍ غَیرَ فَضلِ یَدہِ ،،،،،) ( ،،،،، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھوں پر لگے ہوئے پانی کے عِلاوہ (نئے) پانی سے اپنے سر کا مسح کیا ،،،،،) صحیح ابن حبان / حدیث١٠٨٢/کتاب الطہارۃ /باب ٣ سُنن الوضوء کا ٢٦واں حصہ، صحیح سنن ابو داؤد / حدیث ١١١،
::: مسئلہ(٥) ::: سر اور کانوں کے ساتھ یا بعد میں ، یا وضوء کا حصہ سمجھتے ہوئے گردن کا مسح کرنا ، سُنّت میں ثابت نہیں
::: قُران میں سے دلیل ::: اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے (یَا اَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا اِذَا قُمتُم اِلَی الصَّلاۃِ فاغسِلُوا وُجُوہَکُم وَاَیدِیَکُم اِلَی المَرَافِقِ وَامسَحُوا بِرُؤُوسِکُم وَاَرجُلَکُم اِلَی الکَعبَینِ )(اے لوگو جو ایمان لائے ہو جب تم نماز کے اٹھو تو اپنے چہروں کو دھو لو اور اپنے ہاتھوں کو کہنیوں تک دھو لواور اپنے سر کا مسح کرو اور اپنے پیروں کو ٹخنوں تک دھو لو) سورت المائدہ آیت ٦،
::: سُنّت میں سے دلیل ::: (١) ::: ابو ہُریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ( لَا تُقبَلُ صَلَاۃُ من اَحدَث َ حتی یَتَوَضَّاَ ) ( جِس کو حدث (اصغر)ہو جائے اُس کی نماز اُس وقت تک قُبُول نہیں ہوتی جب تک وہ وضوء نہ کر لے ) صحیح بخاری /حدیث١٣٥ /کتاب الوضوء / باب ٢ ،
اور صحیح مُسلم کے روایت کے اِلفاظ ہیں(لَا تُقبَلُ صَلَاۃُ اَحَدِکُم اِذا اَحدَث َ حَتٰی یَتَوَضَّاَ ) ( اگر تم لوگوں میں سے کوئی کِسی کو حدث (اصغر)ہو جائے تو اُسکی نماز اُس وقت تک قبول نہیں ہوتی جب تک کہ وہ وضوء نہ کر لے ) صحیح مسلم /حدیث ٢٢٥ /کتاب الطہارۃ /باب٢
::: دلیل (٢) ::: عبداللہ ابن عُمر رضی اللہ عنہما کا کہنا ہے ،میں نے رسول اللہ صلی سے سُنا ( لَا تُقبَلُ صَلَاۃٌ بِغَیرِ طُہُورٍ ولا صَدَقَۃٌ من غُلُولٍ)( طہارت (پاکیزگی ) کے بغیر نماز قُبُول نہیں ہوتی اور نہ ہی مالِ غنیمت میں سے خیانت کر کے لیے گئے مال میں سے صدقہ (قُبُول ہوتا ہے)) صحیح مُسلم / حدیث ٢٢٤ /کتاب الطہارۃ /باب٢
سنن کی کتابوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ مندرجہ بالا اِلفاظ بکثرت روایات میں ملتے ہیں ، جِن کے ذریعے سے یہ واضح حُکم ملتا ہے کہ اگر کوئی وضو کی حالت میں نہیں ہے اور وضو کیے بغیر اس نے نماز ادا کی ہے تو اللہ کے ہاں اس کی نماز ادا نہیں ہوئی۔ یعنی ، نماز کی ادائیگی کے لیے وضوء کی حالت میں ہونا شرط ہے ، ( نماز کی شروط کے بارے میں ایک الگ درس ہو چکا ہے)
مندرجہ بالا احادیث میں ''' حدث ''' اِستعمال ہوا ہے ، ''' حدث ''' کی دو کیفیات ہوتی ہیں ،
''' حدث اکبر''' اور''' حدث اصغر''' ، جن کے وارد ہونے سے مسلمان پاکیزگی کے حکم سے خارج ہوجاتا ہے ''' حدث اصغر''' کا تعارف ''' غُسل ''' والے مضمون میں کروایا جا چکا ہے ، اور اِنشاء اللہ ''' حدث اکبر ''' کا تعارف''' طہارت اور نجاست '''کی بُنیادی تفصیل اُن کے مُقام و موقع پر بیان کروں گا جو کہ ان چیزوں کو سمجھنے کے لئیے ضروری ہے کہ نجاست اور طہارت کیا ہے ؟اور حدث اکبر اور حدث اصغریعنی بڑی پلیدگی اور چھوٹی پلیدگی کیا ہے؟
::: فرضیتِ وضوء کی تیسری دلیل ::: یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر آج تک امت کا اجماع ہے اور کسی بھی مذہب کسی بھی فقہ میںاس کے لئیے اختلاف نہیں ہے کہ وضوء کیے بغیر طہارت اختیار کی جا سکتی ہے ،
وضوء کی فضیلت میں بہت سی احادیث وارد ہوئیں ہیں لیکن موضوع کو مختصر رکھتے ہوئے میں اِن احادیث کا یہاں ذکر نہیں کرتا کیونکہ یہ مضمون اس وقت صرف وضوء کی کیفیت یعنی وضو کے طریقہ کے بارے میں ہے ،
وضوء کے طریقوں کو سمجھنے کے لیے ہم اِس کو دو حصوں میں تقسیم کرتے ہیں:::
::: (١) وضوء کے فرائض ::: وہ کام جو اللہ تعالیٰ نے مندرجہ بالا آیتِ وضوء میں بیان فرمائے ہیں ،
::: (٢) وضوء کی سنتیں ::: وضوء میں وہ کام جو آیتِ وضو میں نہیں ہیں لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیے ہیں ۔
::::: وضو کے فرائض :::::
::: (١) پہلا فرض ::: جو کہ صرف وضو کے لئیے ہی نہیں بلکہ بہت سے کاموں میں فرضیت کا حکم رکھتا ہے، وہ ہے ::: نیت ::: یعنی جب کوئی شخص اٹھ کر اپنے چہرے، ہاتھوں ،پیروں کو دھوتا ہے تو اِس کے دل میں یہ اِرادہ ہونا چاہئیے کہ وہ اس خاص ترتیب سے جو عمل کر رہا ہے وہ وضوء ہے اور نجاست سے طہارت میں داخل ہونے کے لیے وہ یہ عمل کر رہا ہے،
::: مسئلہ ::: یہ بات بہت اچھی طرح ذہن نشین ہونی چاہیے اور ہمیشہ رہنی چاہیے کہ نیت کی جگہ دل ہے ، کیونکہ نیت کا مطلب اِرادہ ہوتا ہے اور اِرادہ دِل میں ہوتا ہے، کِسی بھی عِبادت کے لیے زُبان سے نیت ادا کرنے کی کوئی دلیل ہمیں قرآن اور صحیح ثابت شدہ احادیث حدیث میں نہیں ملتی ، کچھ لوگ حج کے تلبیہ کو زُبانی نیت کی دلیل کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں جب کہ تلبیہ کے الفاظ صاف صاف بتاتے ہیں کہ یہ نیت نہیں ہے بلکہ جب کوئی مُسلمان اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی طرف سے ادائیگی حج کے حکم پرلبیک کہتے ہوئے نکلتا ہے تواللہ کے حُکم کا جواب دیتا ہے، بہرحال یہ اِس وقت ہمارا موضوع نہیں اس موضوع پر میری کتاب ''' عمرہ اور حج رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ پر''' میں کچھ تفصیل لکھی گئی ہے اِس کو پڑھنا انشاء اللہ تعالی مفید ہو گا ،
::: (٢) وضوکے فرائض میں سے دوسرا فرض ہے کہ ::: چہرے کو دھویا جائے ::: اور دھونے کا مطلب ہے کہ پانی کو چہرے پر اچھی طرح سے بہایا جائے ، یاد رہے کہ، لمبائی میں پیشانی سے لے تھوڑی اور داڑھوں کے نیچے تک کے حصہ کو ، اور چوڑائی میں ایک کان سے لے کر دوسرے کان کے آغاز تک کے حصہ کوچہرہ کہا جاتا ہے،
::: (٣) وضوء کے فرائض میں سے تیسرا فرض ہے ::: دونوں ہاتھوں کوکُہنیوں تک دھویا جائے ::: کندھے سے ہاتھ کی طرف پہلا جوڑ جو بازو کے درمیان میں ہوتا ہے کُہنی کہلاتا ہے۔
::: (٤) وضوء کے فرائض میں سے چوتھا فرض ہے::: سر کا مسح کرنا::: یعنی وضوء کرتے ہوئے گیلے ہاتھوں کو سر پر پھیرا جائے ،
:::مسح کرنے کا طریقہ ::: عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہُ سے کِسی نے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کِس طرح وضوء کیا کرتے تھے تو اُنہوں نے پورا طریقہ بتاتے ہوئے کہا (،،،،، ثُمَّ مَسَحَ رَاسَہ ُ بِیَدَیہِ فَاَقبَلَ بِہِمَا وَاَدبَرَ بَدَاَ بِمُقَدَّمِ رَاسِہِ حتی ذَہَبَ بِہِمَا اِلی قَفَاہُ ثُمَّ رَدَّہُمَا اِلیَ المَکَانِِ الذِی بَدَاَ مِنہ ُ،،،،، ) ( ،،،،، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں سے سرکا مسح کیا ، مسح کا آغاز سر کے اگلے حصے سے کیا ( یعنی پیشانی کے بعد جہاں سے سر کا آغاز ہوتا ہے وہیں سے مسح کا آغاز کیا جائے گا) اور دونوں ہاتھوں کو پیچھے تک لے گئے اور پھر واپس جہاں سے مسح کا آغازکیا تھا وہاں لے آئے ،،،،، ) صحیح البُخاری / حدیث ١٨٣/کتاب الوضوء / باب ٣٧ ، صحیح مُسلم / حدیث ٢٣٥ / کتاب الطہارۃ /باب ٧،
::: مسئلہ (١) ::: عِمامہ ، خِمار ، ٹوپی وغیرہ پر مسح کرنا ::: یعنی :::
اگر مسح کرتے ہوئے سر پر کوئی ٹوپی یا کپڑا وغیرہ ہے اور وضوء کرنے والا اسے اُتارنا نہیں چاہتا تو وہ اسی پر مسح کر سکتا ہے،
::: دلیل (١) ::: عَمرو بن امیہ رضی اللہ تعالی عنہ کا کہنا ہے کہ( رایتُ النَّبیَ صَلّی اللَّہ ُ عَلِیہ وسَلمَ یَمسَحُ علی عِمَامَتِہِ ) (میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے عِمامہ پر مسح کرتے ہوا دیکھا ہے) صحیح البُخاری / حدیث ٢٠٢/کتاب الوضوء / باب ٤٧ ،
::: دلیل (٢) ::: سر پر رکھی ہوئی چادر (خِمار)کے بارے میں الگ سے بھی بلال رضی اللہ عنہُ سے روایت کہ (اَنَّ رَسُولَ اللَّہِ صَلّی اللَّہ ُ عَلِیہِ وسَلمَ مَسَحَ علی الخُفَّینِ وَالخِمَارِ ) ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چمڑے کے موزوں پر اور سر پر رکھی جانے والی چادر پر مسح کیا ) صحیح مُسلم / حدیث ٢٧٥ / کتاب الطہارۃ /باب٢٣، سنن ابن ماجہ / حدیث ٥٦١ /کتاب الطہارۃ و سننھا / باب ٨٩ کی پہلی حدیث، صحیح سنن ابن ماجہ ٤٥٥،
::: قابلِ غور ::: عِمامہ سے مراد صِرف روایتی قِسم کی وہ ایک پگڑی نہیں ہے جِسے ہم عمامہ شریف کہتے اور سمجھتے ہیں، کیونکہ العِمامۃ ، مِن لباس الراس المعروفۃ، و ھی ما تعم الراس ، یعنی ، عِمامہ سر کے معروف لباسوں میں سے وہ چیز ہے جوپورے سر کو ڈھانپے رکھے، لہذا اگر کسی نے سر پر کپڑا لے رکھاہے یا لپیٹ رکھا ہے یا باندھا ہوا ہے ، تو یہ تینوں کیفیات عمامہ کی ہیں ، اور ٹوپی بھی اِسی حُکم میں داخل ہے ، اور '' خِمار ''' اُس چادر کو کہتے ہیں جسے سر پر باندھے بغیر رکھا جاتا ہے،
::: یاد دھانی ::: اِن سب چیزوں پر اُسی طریقے سے مسح کیا جا ئے گا، جو طریقہ ابھی عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہُ والی روایت میں بیان ہوا ہے،
::: مسئلہ(٢) ::: سر( اور کانوں) کا مسح ایک دفعہ سے زیادہ بھی کیا جا سکتا ہے :::
عام طور پر یہ خیال کیا جاتاہے کہ سر( اور کانوں ) کا مسح ایک ہی دفعہ کیا جائے گا ، خواہ اعضاءِ وضوء دو دو دفعہ دھوئے جائیں یا تین تین دفعہ ، بلکہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ایک دفعہ سے زیادہ مسح کرنا جائز نہیں ، مگر یہ دونوں باتیں دُرست نہیں ، سر (اور کانوں) کا مسح بھی تین دفعہ کیا جا سکتا ہے ،
عام معمول میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر (اور کانوں) کا مسح ایک دفعہ کیا کرتے تھے ، اِس لیے ایک دفعہ کی روایات زیادہ ہیں ، پس دونوں قِسم کی روایات پر عمل کرتے رہنا چاہیئے ، اور وہ یوں کہ عام طور پر تو ایک دفعہ مسح کیا جائے اور کبھی کبھی تین دفعہ ، تا کہ دونوں سُنّتوں پر عمل ہو جائے ،
::: دلیل ::: شفیق بن سمرہ رحمہُ اللہ سے کا کہنا ہے کہ ( رایت عُثمَانَ بن عَفَّانَ (رَضِی اللَّہ ُ عنہ ُ)غَسَلَ ذِرَاعَیہِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا وَمَسَحَ رَاسَہُ ثَلَاثًا ثُمَّ قال ::: رایت رَسُولَ اللَّہِ صَلَی اللَّہ ُ عَلِیہِ وَسَلَّم َ فَعَلَ ہذا ::: ) ( میں نے عُثمان بن عفان (رضی اللہ عنہُ کو وضوء کرتے ہوئے دیکھا کہ) اُنہوں نے اپنی کلائیاں تین تین دفعہ دھوئِیں اور اپنے سر کا تین دفعہ مسح کیا اور پھر فرمایا ::: میں نے رسول اللہ صلی اللہ عَلیہ وسلم کو ایسا ہی کرتے ہوئے دیکھا ::: ) سنن ابی داؤد / حدیث ١١٠ ، اور حمران رضی اللہ عنہُ سے بھی یہ روایت ہے /حدیث ، ١٠٧ ،دونوں روایات کو اِمام الالبانی نے صحیح قرار دِیا ، مزید تفصیل ''' فتح الباری ''' اور ''' سُبل السّلام ''' اور ''' تمام المنۃ /ص٩١ ''' میں میسر ہے ،
::: مسئلہ(٣) ::: سر کے ساتھ ساتھ پیشانی کا مسح بھی کیا جا سکتا ہے ،
::: دلیل ::: مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہُ سے روایت ہے کہ (اَنَّ النبی صَلّی اللَّہ ُ عَلِیہِ وسَلمَ تَوَضَّاَ فَمَسَحَ بِنَاصِیَتِہِ وَعَلَی العِمَامَۃِ وَعَلَی الخُفَّینِ )( نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور اپنی پیشانی اپنے امامہ اور اپنے چمڑے کے موزوں پر مسح کیا ) صحیح مُسلم / حدیث ٢٧٤ / کتاب الطہارۃ /باب ٢٣
::: مزید قابلِ غور ::: اس چیز کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی ثبوت نہیں ملتا کہ انہوں نے سر کے کچھ حصوں پر مسح کیا ہو جیسے کہ اکثر مسلمانوں میں یہ چیز نظر آتی ہے کہ ہاتھوں میں نیا پانی لیتے ہیں اور اس کو جھٹکتے ہوئے اپنے ہاتھوں کی انگلیوں کی پہلی پوروں کو پیشانی کے سامنے والے حصہ میں تین دفعہ کبوتر کی چونچ کی طرح مار کر مسح کر لیتے ہیں، یا بالوں کی سامنے والی لِٹ (پف) پر ہلکا ہلکا سا مسح کر لیتے ہیں تاکہ بال بھی نہ خراب ہوں اور مسح بھی ہو جائے ، راضی رہے رحمان بھی اور خوش رہے شیطان بھی ، اِنَّا لِلّہِ وَاِنَّا اِلیہِ رَاجِعُونَ ، یا سر کے کچھ حصے پر ہاتھ پھیر لیتے ہیں ، سر کے مسح کے یہ سب طریقے خِلافِ سُنّت ہیں، سر اور سر ڈھانپنے والی چیزوں کا ایک اکیلا طریقہ صِرف وہی ہے جوابھی عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہُ والی حدیث میں بیان ہوا ہے ۔
::: مسئلہ(٤) ::: سر کے مسح کے لیے ہاتھوں پر نیا پانی بھی لگایا جا سکتا ہے ،
:::دلیل ::: عبداللہ بن ابو زید رضی اللہ عنہُ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضوء کا طریقہ بتاتے ہوئے کہتے ہیں ( ،،،،، وَمَسَحَ بِرَاسِہِ بِمَاءٍ غَیرَ فَضلِ یَدہِ ،،،،،) ( ،،،،، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھوں پر لگے ہوئے پانی کے عِلاوہ (نئے) پانی سے اپنے سر کا مسح کیا ،،،،،) صحیح ابن حبان / حدیث١٠٨٢/کتاب الطہارۃ /باب ٣ سُنن الوضوء کا ٢٦واں حصہ، صحیح سنن ابو داؤد / حدیث ١١١،
::: مسئلہ(٥) ::: سر اور کانوں کے ساتھ یا بعد میں ، یا وضوء کا حصہ سمجھتے ہوئے گردن کا مسح کرنا ، سُنّت میں ثابت نہیں
جاری ہے، اِس کا بیان اِنشاء اللہ وضوء کی سُنتوں میں کانوں کے مسح میں کیا جائے گا ۔





.jpg)




